Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں غیر قانونی طور پر پراجکٹوں کی تعمیر، آندھرا پردیش کا الزام

تلنگانہ میں غیر قانونی طور پر پراجکٹوں کی تعمیر، آندھرا پردیش کا الزام

The Chief Minister of Andhra Pradesh, Shri N. Chandrababu Naidu and the Chief Minister of Telangana, Shri K. Chandrasekhar Rao calling on the Union Minister for Water Resources, River Development and Ganga Rejuvenation, Sushri Uma Bharti, in New Delhi on September 20, 2016. The Minister of State for Water Resources, River Development and Ganga Rejuvenation, Dr. Sanjeev Kumar Balyan is also seen.

قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ، اے پی کے الزامات بے بنیاد۔ تلنگانہ کا جواب

نئی دہلی۔/21ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش نے آج تلنگانہ پر الزام عائد کیا کہ وہ دریائے کرشنا پر دو آبپاشی پراجکٹس غیر قانونی طور پر تعمیر کررہا ہے اور استدلال پیش کیا کہ جس سے اس ( اے پی ) کے موجودہ آبپاشی پراجکٹوں پر بدترین اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن تلنگانہ نے اے پی کے اس الزام کو غلط و بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ مرکزی وزیر آبی وسائل اوما بھارتی کی صدارت میں منعقدہ اپیکس کونسل کے اجلاس میں آندھرا پردیش نے پڑوسی تلگوریاست تلنگانہ پر یہ الزامات عائد کیا۔ اس اجلاس میں اے پی کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو اور ان کے تلنگانہ کے ہم منصب کے چندر شیکھر راؤ نے شرکت کی۔ دوران اجلاس آندھرا پردیش نے کہا کہ تلنگانہ کے دونئے پراجکٹس پالا مورو رنگاریڈی اور ڈنڈی آبپاشی اسکیمات دراصل 2014 کے آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ اے پی نے کونسل سے مطالبہ کیا کہ ان پراجکٹوں کو منظوری تک روک دیا جائے۔ تاہم تلنگانہ نے کہا کہ سابقہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں یہ دونوں پراجکٹس شروع کئے گئے تھے چنانچہ ان سے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔ اجلاس کے بعد اوما بھارتی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دونوں ریاستوں نے خوشگوار و دوستانہ ماحول میں مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اوما بھارتی نے کہا کہ آبی طاس میں پانی کی دستیابی کا جائزہ لینے کیلئے دونوں ریاستوں کے انجینئروں اور مرکزی وزارت آبی وسائل کے چند اعلیٰ افسران پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی پانی کی دستیابی کے بارے میں ٹریبونل کو رپورٹ روانہ کرے گی جس کی بنیاد پر دونوں ریاستوں کیلئے پانی کی تقسیم عمل میں آئے گی۔

TOPPOPULARRECENT