Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کیلئے رعایت

تلنگانہ میں غیر مجاز تعمیرات کو باقاعدہ بنانے کیلئے رعایت

دونوں شہروں اور اضلاع میں 31ڈسمبر تک مہلت ‘ وزیر کمرشیل ٹیکس کا بیان‘فیس کی تفصیلات کا اعلان
حیدرآباد۔2نومبر ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ ریاست کی تمام بلدیات ‘ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹیز بشمول گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن و حیدرآباد میٹرو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حدود میں پائے جانے والے تمام غیر مجاز تعمیرات و غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے ’’ بی پی ایس ‘‘ ( بلڈنگ پینلائیزیشن اسکیم) اور ’’ ایل آر ایس‘‘ ( لینڈ ریگولرائیزیشن اسکیم ) کا اعلان کیا اور ان دونوں اسکیموں کے تحت غیر مجاز تعمیرات و غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے سے متعلق درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ 31 ڈسمبر 2015 مقرر کی گئی ہے اور اس طرح دو ماہ کی مہلت دی گئی ہے ۔ آج یہاں سکریٹریٹ میں مسرس بی گوپال پرنسپال سکریٹری محکمہ بلدی نظم و نسق و شہری ترقیات ‘ ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور ڈاکٹر چرنجیلو منیجنگ ڈائرکٹر ایچ ایم ڈی اے کے ہمراہ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر ٹی سرینواس یادو وزیر کمرشیل ٹیکس نے اس بات کا اعلان کیا اور بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کا حکومت آخری موقع فراہم کررہی ہے اور اس مقررہ مدت کے بعد ہرگز کوئی اور موقع فراہم نہیں کیا جائے گا اور اس سلسلہ میں غیر مجاز تعمیرات و غیر مجاز لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کیلئے باقاعدہ طور پر رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ دونوں اسکیموں کیلئے درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ کے بعد غیر مجاز تعمیرات و غیر مجاز لے آؤٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ درخواستوں کی وصولی کے بعد غیر مجاز تعمیرات و لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کی کارروائی اندرون چھ ماہ مکمل کرلی جائے گی جبکہ کسی بھی غیر مجاز تعمیرات یا لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کی ہر درخواست کے ساتھ دس ہزار روپئے بطور فیس ادا کرکے درخواست پیش کرنا ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت امکنہ جات و عمارتوں کی تعمیر کے علاوہ لے آؤٹس کی منظوری دینے کیلئے آسان طریقہ کار کو متعارف کر کے ’’ سنگل ونڈو ‘‘ کے ذریعہ منظوریوں کو یقینی بنایا جائے گا اور آئندہ مستقبل میں غیر مجاز تعمیرات کے خلاف نہ صرف فوجداری مقدمات درج کئے جائیں گے بلکہ عمارت کے برقی ‘ نل اور جائیداد ٹیکس میں سہ گنا اضافہ کیا جائے گا ۔ مسٹر سرینواس یادو نے بتایا کہ 28 اکٹوبر تک انجام دیئے گئے غیر مجاز تعمیرات اور غیر مجاز لے آؤٹس کیلئے بی پی ایس اور ایل آر ایس کیلئے ہی قابل عمل ہوں گے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انفرادی عمارت ریگولرائیزیشن اسکیم کے تحت مختلف زمرہ ( یعنی اراضی کا رقبہ ) کی مناسبت سے رقم وصول کی جائے گی ۔ ایک سو گز اراضی پر تعمیر کردہ غیر مجاز عمارت ریسیڈنشیل کیلئے 15روپئے فی مربع فٹ اور کمرشیل کیلئے 30روپئے فی مربع فیٹ رقم وصول کی جائے گی ۔ اسی طرح 101تا 300گز تک رہائشی عمارت کیلئے 30روپئے فی مربع فیٹ اور کمرشیل کیلئے 60روپئے فی مربع فیٹ ‘ 301تا 500گز تک منظور پلان سے ہٹ کر تعمیر رہائشی مکان کیلئے 60روپئے فی مربع فٹ اور کمرشیل کیلئے 120روپئے بغیر اجازت کے تعمیر کئے گئے مکان پر 100روپئے فی مربع فٹ اور کمرشیل کیلئے 200روپئے فی مربع فیٹ ‘ 501 گز تا 1000 گز پر منظورہ پلان سے انحراف کر کے تعمیر کرنے پر فی مربع فیٹ 100روپئے رہائشی مکان کیلئے اور کمرشیل کیلئے 200 روپئے فی مربع فیٹ اور کوئی منظوری کے بغیر غیر مجاز رہائشی تعمیر کیلئے 120روپئے فی مربع فٹ اور کمرشیل کیلئے 250 روپئے فی مربع فیٹ کے علاوہ ایک ہزار گز سے زائد اراضی پر منظورہ پلان سے انحراف کر کے غیر مجاز تعمیر کردہ رہائشی مکان کیلئے 150 روپئے فی مربع فٹ اور کمرشیل کیلئے 300 روپئے فی مربع فٹ کے علاوہ  بغیر اجازت کے غیر مجاز رہائشی مکان کیلئے 200 روپئے فی مربع فٹ اور کمرشیل کیلئے 400 روپئے فی مربع فٹ رقم وصول کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT