Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں قاضیوں کیلئے نئے قانون کی تجویز

تلنگانہ میں قاضیوں کیلئے نئے قانون کی تجویز

علماء و مشائخ سے عنقریب رائے، حکومت کا غوروخوض
حیدرآباد۔/12نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت قاضیوں کیلئے نئے قانون کی تدوین پر غور کررہی ہے جس کے لئے علماء و مشائخ سے عنقریب رائے حاصل کی جائے گی۔ مقننہ کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے اجلاس میں یہ مسئلہ زیر غور رہا جس میں طئے کیا گیا کہ قاضیوں کے موجودہ قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے تاکہ قاضیوں کیلئے نہ صرف علاقہ کا تعین ہو بلکہ انہیں فیس کے حصول سے متعلق شرائط کا پابند کیا جائے۔ قاضیوں کے مسائل کے سلسلہ میں حکومت کو بارہا نمائندگیاں وصول ہوئی ہیں اور دو سال قبل محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے قاضیوں اور علماء و مشائخ کا اجلاس طلب کرتے ہوئے رائے حاصل کی گئی تھی۔ قاضیوں کے تقرر اور ان کی معیاد کے تعین، ڈسپلنری کنٹرول اور حدود سے متعلق اُمور پر دوبارہ رائے حاصل کی جائے گی اور قانون میں ترمیم کے ذریعہ اسے نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ قاضیوں کے تقرر اور ان کی برخواستگی حکومت کے کنٹرول میں رہے گی۔ نئے قاضیوں کے تقرر پر امتناع اور نائب قاضیوں کے ذریعہ نکاح کے اُمور کی تکمیل کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں اکثر یہ شکایات سننے میں آئی ہیں کہ نائب قاضیوں نے دوسروں کے حدود میں مداخلت کردی ہے۔ کئی مقامات پر قاضیوں کے درمیان تکرار کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بتایا کہ علماء و مشائخ اور قاضیوں کی تنظیموں سے رائے حاصل کرنے کے بعد نئی قانون سازی کی جائے گی۔ کمیٹی کے ارکان نے قاضیوں کیلئے حدود کے تعین میں شادی خانوں کی تعداد کو بھی پیش نظر رکھنے کی تجویز پیش کی کیونکہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں بڑی تعداد میں شادی خانے ہیں جبکہ بعض علاقوں میں یہ تعداد محدود ہے۔ لہذا شادی خانوں کی مناسب تقسیم کی بھی سفارش کی گئی۔ مقننہ کمیٹی میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق تلنگانہ میں قاضیوں کی جملہ تعداد 81ہے جن میں سب سے زیادہ 17 قاضی محبوب نگر میں ہیں جبکہ 15 قاضیوں کے ساتھ حیدرآباد دوسرے نمبر پر ہے۔ نظام آباد میں 13 سرکاری قاضی ہیں۔ اس کے علاوہ عادل آباد 9 ، کریم نگر 3 ، ورنگل ایک، رنگاریڈی 8 ، میدک 7 ، کھمم 6  اور نلگنڈہ میں 2 قاضی ہیں۔ حیدرآباد کے سرکاری قاضیوں میں دو مختلف الزامات کے تحت معطل کئے گئے اور ان کی بحالی ابھی عمل میں نہیں آئی۔ اس طرح 13  قاضی برسر خدمت ہیں۔ جن میں قاضی محمد نجم الدین حسین، قاضی محمد میر قادر علی، قاضی سید لطیف علی قادری، قاضی محمد حبیب الرحمن قادری، قاضی محمد ظہیر الدین، قاضی نورالاصفیاء ، قاضی محمد احسن الزماں قریشی، قاضی اسلم شریف، قاضی شجاع الدین قادری، قاضی لطف اللہ، قاضی محمد عبدالمحمود قریشی، قاضی حبیب احمد بن سالم العطاس اور شیعہ قاضی جعفر احمد شامل ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT