Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / تلنگانہ میں نئے اضلاع کا قیام

تلنگانہ میں نئے اضلاع کا قیام

آئینے کے سو ٹکڑے کر کے ہم نے دیکھے ہیں
ایک میں بھی تنہا تھے سو میں بھی اکیلے ہیں
تلنگانہ میں نئے اضلاع کا قیام
ریاست تلنگانہ میں نئے اضلاع کا قیام اب تقریبا یقینی ہوگیا ہے ۔ اس سلسلہ میں مناسب احکام کی اجرائی اور ضابطوں کی کارروائیاں باقی ہیں۔ حکومت نے اس سلسلہ میں اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کا بھی آغاز کردیا ہے اور اس سلسلہ میں مزید کچھ مشاورت درکار ہوگی تو وہ بھی کرلی جائیگی ۔ جس وقت سے ریاست کی تشکیل عمل میں آئی اور یہاں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی حکومت قائم ہوئی اسی وقت سے اس سلسلہ میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں۔ خود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کچھ عرصہ قبل اس سلسلہ میں واضح کردیا تھا کہ ریاست میں نئے اضلاع تشکیل دئے جائیں گے ۔ چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ وہ انتظامیہ کو موثر بنانا چاہتے ہیں۔ ریاست کی ترقی کو تیز رفتار بنانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ریاست کو ترقی کے معاملہ میں ملک بھر میں منفرد مقام حاصل ہوجائے ۔ چیف منسٹر کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جبکہ انتظامیہ کو موثر بنایا جائے ۔ اختیارات کو غیر مرکوز کیا جائے اور مقامی سطح پر ترقیاتی اقدامات کو تیزی سے روبعمل لانے کو یقینی بنایا جاسکے ۔ اس سلسلہ میں حکومت نے اپنے طور پرا یک سروے کیا اور پھر مختلف گوشوں سے مشاورت کیلئے ایک کمیٹی بھی تشکیل دیدی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی قیادت میں کمیٹی نے بھی نئے اضلاع کی تشکیل کی حمایت میں اپنی رپورٹ پیش کردی جس کے بعد ایسا تاثر مل رہا ہے کہ اب ریاست میں نئے اضلاع کی تشکیل کا عمل تیز رفتار ہوجائیگا اور دسہرہ تہوار کے بعد نئے اضلاع کے قیام کا باضابطہ اعلان کردیا جائیگا ۔ اس سلسلہ میں جہاں عہدیداروں نے اپنی رائے سے حکومت کو واقف کروایا ہے وہیں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور دوسرے شعبے جات کی رائے بھی حاصل کی گئی ہے ۔ انتظامیہ کو بہتر بنانے کے ضمن میں یہ مشاورت بہت ضروری تھی اور یہ عمل مکمل کرلیا گیا ہے ۔ اب سرکاری سطح پر جو کام کرنے ہیں ان کی تکمیل کیلئے تیزی سے کوششیں شروع ہونے والی ہیں ۔چونکہ دسہرہ تہوار کیلئے زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے ایسے میں یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ نئے اضلاع کی تشکیل کا عمل واقعتا تیزی سے آگے بڑھے گا ۔
حکومت نئے اضلاع کی تشکیل تو عمل میں لا رہی ہے اور موجودہ اضلاع کی تعداد میں اضافہ بھی ہوجائیگا تاہم اس کے بعد حکومت کو حکمرانی کو بہتر اور موثر بنانے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ نئے اضلاع کی جب تشکیل مکمل ہوجائیگی انتظامیہ کو حدود و اربعہ کا تعین کرنا اور اس پر عمل آوری کو یقینی بنانا ہوگا ۔ نئے عملہ کی تعیناتی اور نئی ذمہ داریوں کی تفویض ہوگی ۔ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یہ ذمہ داریاں پوری طرح سے ادا کی جائیں ۔ اس سارے عمل میں عوام کو مشکلات پیش نہ آنے پائیں۔ نئے اضلاع کی تشکیل کے نتیجہ میں ریاست میں انتظامیہ کو موثر بنانے میں یقینی طور پر مدد مل سکتی ہے ۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جب اختیارات غیر مرکوز ہوجائیں گے اور چھوٹے اضلاع ہونگے تو ترقی کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ ترقی کا عمل تیز رفتار ہوسکتا ہے ۔ حکومت کو اس سارے عمل میں انفرا اسٹرکچر کی فراہمی پر اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔ کاغذ پر تمام کارروائیاں پوری تو ہوجائیں گی لیکن انہیں عملی شکل دینے میں کچھ مشکلات ضر ور پیش آسکتی ہیں اور ان کا پہلے سے خیال کرتے ہوئے انہیں کم سے کم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ریاستی حکومت نے ایک تجویز یہ بھی پیش کی ہے کہ جن ٹاؤنس کی آبادی دیڑھ لاکھ سے زیادہ ہوگی انہیں شہری حدود قرار دیا جائیگا ۔ شہری حدود کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ یہاں انفرا اسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومت کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ وہ کس حد تک انفرا اسٹرکچر فراہم کرسکتی ہے ۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں شہری حدود کے انفرا اسٹرکچر کی نوعیت کچھ مختلف ہے ۔ ریاستی حکومت اس سلسلہ میں کس نوعیت کا کو اختیار کرتی ہے وہ بھی اہمیت کی حامل بات ہوگی ۔
نئے اضلاع میں جہاں انتظامیہ بہتر ہوگا ‘ حکمرانی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی وہیں یہ اندیشے بھی بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ یہاں کرپشن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے ۔ اس صورتحال میں حکومت کو قبل از وقت کرپشن کے انسداد کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسی تجویز ہے جس کے منفی اور مثبت دونوں ہی اثرات ہوسکتے ہیں۔ مثبت اثرات کے ساتھ اس پر عمل کیا جاسکتا ہے اور جو منفی اثرات ہوسکتے ہیں ان کے اندیشوں سے نمٹنے کیلئے قبل از وقت احتیاطی اور تدارک کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر یہاں عوام کی مشکلات کو کم سے کم کرتے ہوئے کرپشن کے اندیشوں کو ختم کرتے ہوئے نئے اضلاع کا قیام عمل میں آجاتا ہے اور یہاں انفرا اسٹرکچر کی فراہمی ضروریات کے مطابق ہوسکتی ہے اور انتظامیہ موثر ہوسکتا ہے تو پھر یہ ایک مثالی عمل ہوگا جس سے ریاست کو ترقی دینے میں واقعی مدد ملے گی ۔

TOPPOPULARRECENT