Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں نئے اضلاع کیلئے سیاسی و تکنیکی مسائل

تلنگانہ میں نئے اضلاع کیلئے سیاسی و تکنیکی مسائل

دسہرہ تک تشکیل اضلاع امکان موہوم، محکمہ مال کے عہدیداران کام میں مصروف
حیدرآباد ۔ 23 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں نئے اضلاع کی تشکیل کیلئے سیاسی اور تکنیکی مسائل حائل ہورہے ہیں۔ مقررہ مدت دسہرہ تک نئے اضلاع کی تشکیل ممکن نظر نہیں آرہی ہیں۔ رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے محکمہ مال کے عہدیدار شب و روز کام کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ نظم و نسق کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے اور مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے تلنگانہ کے موجودہ 10 اضلاع میں مزید 14 اضلاع کا اضافہ کرتے ہوئے جملہ 24 اضلاع بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور کلکٹرس کو نئے اضلاع کی تجویز تیار کرتے ہوئے انہیں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کلکٹرس کی تجاویز کا دو روزہ اجلاس طلب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے جائزہ لیا تھا اور دسہرہ تک نئے اضلاع کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم دسہرہ تک وعدہ کے مطابق نئے اضلاع کی تشکیل کے امکانات نہیں ہے کیونکہ نئے اضلاع کی تشکیل میں حکومت کو کئی مسائل کا سامنا ہے اور سیاسی چیلنجس بھی سرکاری مشنری کیلئے بہت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ نئے اضلاع میں سرکاری ملازمین کی تقسیم، نئے اور موجودہ اضلاع میں سرحدوں کا تعین، اسمبلی حلقوں میں نئے منڈلس کی شمولیت اور موجودہ منڈلس کے اخراج تمام اضلاع میں قدرتی وسائل کی برابر تقسیم وغیرہ نئے اضلاع کی تشکیل میں بہت بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ محکمہ مال کے عہدیداروں نے بتایا کہ نئے اضلاع کی تشکیل سے جہاں نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں وہیں زیرالتواء مسائل مزید پیچیدہ ہونے کے امکانات ہیں۔ مختلف محکمہ جات میں علحدہ علحدہ مسائل ہیں۔ نئے منڈل اور ڈیویژنس کی تشکیل اور انہیں اضلاع میں شامل کرنے کا کام ہنوز زیرالتواء ہے۔ نئی حد بندیوں کے باعث چند اسمبلی حلقے دو یا تین اضلاع میں تقسیم ہورہے ہیں بالخصوص اضلاع عادل آباد، کریم نگر اور ورنگل میں اس طرح کے زیادہ امکانات ہیں جس کی حکمران ٹی آر ایس کے عوامی منتخب نمائندے شدت سے مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا استدلال ہیکہ اسمبلی حلقوں کی صورت گری تبدیل ہونے سے وہ اپنے مضبوط سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے علاقوں سے محروم ہورہے ہیں۔ حیدرآباد رنگاریڈی میں سرحدی حدبندی اور سرکاری ایمپلائز کی تقسیم بھی دوسرا بڑا چیلنج ہے۔ حکومت نے فی الحال حیدرآباد اور رنگاریڈی میں زیادہ نئے اضلاع تشکیل دینے کی تجویز رکھتی ہے، جس سے حکمران جماعت کے مقامی قائدین سیاسی اثرورسوخ سے محروم ہوجانے کا دعویٰ پیش کررہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے اپنے لاقوں میں نئے اضلاع تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مثلاً جنگاؤں، ضلع ورنگل اور گدوال، ضلع محبوب نگر کو نئے اضلاع بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مہم شروع کی ہے۔ ان مسائل، چیلنجس، اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت وعدے کے مطابق صرف چند نئے اضلاع تشکل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جہاں کے کوئی مسائل نہیں ہے۔ تاہم چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کل جماعتی اجلاس طلب کرنے اور عوامی رائے حاصل کرنے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کریں گے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ حکومت نے عوامی رائے حاصل کرنے کیلئے آئندہ دو ہفتوں میں اعلامیہ جاری کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT