Tuesday , May 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں نئے اضلاع کی تشکیل کے بعد سابق اضلاع کی رونق ختم ہوگئی : پی وی کونڈل راؤ

تلنگانہ میں نئے اضلاع کی تشکیل کے بعد سابق اضلاع کی رونق ختم ہوگئی : پی وی کونڈل راؤ

ورنگل : نئے اضلاع کی تشکیل کے 120 دن بعد شمالی تلنگانہ میں کئی تاریخی یونٹس میں ترقی کے معاملہ میں مشکل حالات کا سامنا ہے ۔ تاریخی ضلع ورنگل ، جس میں پانچ ایڈمنسٹریشن یونٹس ( اضلاع ) بنائے گئے ہیں ۔ کی شان و شوکت ختم ہوگئی ہے اور دیگر چار یونٹس میں ترقیاتی پروگرامس کی نگرانی کے لیے صرف عہدیداروں کو مامور کیا گیا ہے ۔ مبصرین نے کہا کہ اضلاع کی تقسیم طاقتور دارالحکومت اور کمزور ڈسٹرکٹ یونٹس کا نظریہ ہے اور نئے اضلاع کے نصف میں اس نظریہ کے خواہش کے مطابق نتائج برآمد ہونے کے امکانات نہیں ہیں ۔ ورنگل کو پانچ یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ تاریخی ورنگل ٹیاگ دو اضلاع کے ساتھ ہے ۔ ایک اربن اور دوسرے رورل ۔ اربن ڈسٹرکٹ گریٹر ورنگل میونسپل کارپوریشن حدود میں پھیلا ہوا ہے ۔ اور یہ شہر کے مضافات سے متصل سات ریونیو منڈلس سے جڑا ہوا ہے ۔ دوسرا ورنگل ڈسٹرکٹ رورل ورنگل ہے ۔ رورل ورنگل کا ہیڈکوارٹر بھی عارضی طور پر ہنمکنڈہ میں ہے ۔ یہ ڈسٹرکٹ نرسم پیٹ ، وردھنا پیٹ اور پرکال سگمنٹ ولیجس تک پھیلا ہوا ہے ۔ تیسرا ضلع محبوب آباد ہے ۔ یہ محبوب آباد ، درناکل ، تھرور اور بیارم علاقوں تک پھیلا ہوا ہے ۔ چوتھا ضلع ہے معدنیات سے مالا مال بھوپال پلی جو جئے شنکر کے نام سے ہے ۔ یہ بھوپال پلی ، ملگ اور کھمم تک پھیلا ہوا ہے اور ٹرائیبل فارسٹ زون سے جڑا ہوا ہے ۔ ورنگل میں بنایا گیا پانچواں ضلع جنگاؤں ہے جو پالا کرتی ، جنگاؤں اور اسٹیشن گھن پور علاقوں میں پھیلا ہوا ہے ۔ ابتداء میں ورنگل میں پانچ اضلاع بنانے کی تجویز نہیں تھی اور مبصرین نے اس احساس کا اظہار کیا تھا کہ ایک بڑے جغرافیائی یونٹ کو دو یا تین یونٹس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم رورل ورنگل اور جنگاؤں کی تجویز پر آخری وقت میں غور کیا گیا ۔ کریم نگر ڈسٹرکٹ میں اسی طرح کی صورتحال پائی جاتی ہے جہاں بھی سابق ضلع کریم نگر کو تقسیم کرتے ہوئے چار اضلاع بنائے گئے ہیں ۔ تاریخی ضلع کریم نگر میں اب چار اضلاع کریم نگر ، پداپلی ، جگتیال اور سرسلہ ہیں ۔ اس میں دو یا تین اضلاع بنائے جاسکتے تھے لیکن چار اضلاع بنائے گئے ۔ عادل آباد کو بھی چار اضلاع میں تقسیم کیا گیا ۔ عادل آباد ، آصف آباد ، منچریال اور نرمل ڈسٹرکٹس میں ۔ جغرافیائی اعتبار سے عادل آباد ایک بڑے علاقہ پر پھیلا ہوا ہے اور اس کو دو یونٹس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔ محبوب نگر کے معاملہ میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے اس ضلع کو تقسیم کر کے اب اس میں چار اضلاع تشکیل دئیے گئے ہیں جو ناگر کرنول ، محبوب نگر ، ونپرتی اور گدوال ہیں ۔ پوری ریاست میں تشکیل دیا گیا واحد بہتر جیوگرافیکل یونٹ سدی پیٹ ڈسٹرکٹ کی تشکیل ہے تاہم یہ ضلع پولیس ایڈمنسٹریشن ضرورتوں کی خاطر ورنگل اور کریم نگر کے یونٹس میں شامل ہے ۔ ایڈمنسٹریشن کے فوائد کے باوجود نئے اضلاع کی تشکیل کی وجہ تقریبا تمام سابق اضلاع کی رونق ، چمک دمک ختم ہوگئی ہے ۔ اگر کوئی سابق اضلاع میں بزنس اعداد شمار پر نظر ڈالے تو ورنگل کو خاص طور پر کئی نقصانات کا سامنا کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔ نئے اضلاع بھوپال پلی اور جنگاؤں کو چھوٹی ٹاون شپس کا موقف دیا گیا اور ان دو ٹاونس کو 2014 کے مجالس مقامی کے انتخابات کے دوران نگر پنچایتس میں تبدیل کرتے ہوئے انہیں ترقی دی گئی ۔ سرسلہ ، آصف آباد اور ونپرتی کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے ۔ چونکہ اسمبلی حلقوں کی از سر نو حد بندی کے 2019 کے عام انتخابات سے قبل امکانات نظر نہیں آتے ہیں ۔ اس لیے تقریبا تمام ڈسٹرکٹس کمپوزٹ سگمنٹ یونٹس سے لنکڈ نہیں ہیں ۔ کاکتیہ یونیورسٹی کے مورخین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں اضلاع کی تشکیل جدید کے ساتھ بنائے گئے موجودہ ڈسٹرکٹ یونٹس سے خواہش کے مطابق نتائج برآمد نہیں ہوں گے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT