Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں نئے اضلاع کی تشکیل کے لیے حکومت کی سرگرمیاں تیز

تلنگانہ میں نئے اضلاع کی تشکیل کے لیے حکومت کی سرگرمیاں تیز

دسہرہ تک سرکاری اعلامیہ کی اجرائی متوقع ، عوامی نمائندوں سے منظوریوں کا حصول
حیدرآباد 5 اگسٹ (سیاست نیوز) ریاست میں نئے اضلاع کی تشکیل کے لئے حکومت نے سرگرمیوں کو تیز کردیا ہے۔ توقع ہے کہ نئے اضلاع کے سلسلہ میں دسہرہ تک سرکاری اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ حکومت نے موجودہ اضلاع کی تنظیم جدید اور نئے اضلاع کی تشکیل کے سلسلہ میں ضلع کلکٹرس کے ساتھ مشاورت کا عمل مکمل کرلیا ہے جس کے بعد چیف منسٹر نے پارٹی کے عوامی نمائندوں سے اِس کی منظوری حاصل کرلی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اِس مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کرنے کے لئے چیف منسٹر کل جماعتی اجلاس کی طلبی کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کے 7 اگسٹ کے دورہ تلنگانہ کے بعد کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ 11 اگسٹ کو اضلاع کی تنظیم جدید سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا جائے گا اور اِس سلسلہ میں عہدیداروں نے متعلقہ فائیل چیف منسٹر کو روانہ کردی ہے۔ کل جماعتی اجلاس کے بعد تنظیم جدید کی فائیل کو اپوزیشن کی تجاویز کو شامل کرتے ہوئے منظوری دے دی جائے گی۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ چاہتے ہیں کہ دسہرہ تہوار تک یہ عمل مکمل کرلیا جائے اور عوام کو دسہرہ تحفہ کے طور پر نئے اضلاع کی فہرست جاری کی جائے۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ 10 اگسٹ کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ اعلامیہ کی اجرائی کے بعد گزٹ کی اجرائی ضروری ہے جس کے لئے 60 دن درکار ہیں۔ دسہرہ تہوار 11 اکٹوبر کو ہے اور چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ اُس سے قبل گزٹ بھی جاری کردیا جائے اور نئے اضلاع میں دسہرہ تہوار سرکاری طور پر منایا جائے۔ تلنگانہ میں 12 اگسٹ کو کرشنا پشکرالو کا آغاز ہوگا لہذا اُس سے قبل اضلاع کی تنظیم جدید کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ حکومت ایک طرف اضلاع کی تنظیم جدید اور نئے اضلاع کے قیام کے ذریعہ پارٹی قائدین کو مطمئن کرنے کی کوشش کررہی ہے تو دوسری طرف مرکزی حکومت نے اسمبلی حلقوں کی تعداد میں اضافہ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کردی۔ مرکز نے تلنگانہ اور آندھراپردیش کی اسمبلی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کو 2019 ء تک ناممکن قرار دیا ہے۔ مرکز کا دعویٰ ہے کہ اِس سلسلہ میں ضروری اُمور کی تکمیل اِس مختصر مدت میں ممکن نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اِس صورتحال سے نمٹنے کے لئے چیف منسٹر کیا حکمت عملی اختیار کریں گے۔ پارٹی میں موجود کئی قائدین کو مرکز کے اِس فیصلے سے مایوسی ہوئی کیوں کہ نشستوں کی تعداد میں اضافہ کی صورت میں اُن کے اسمبلی کے لئے مقابلہ کرنے کے امکانات میں اضافہ ہوسکتا تھا۔ نئے اضلاع کی تشکیل کا مقصد بہتر حکمرانی کو یقینی بنانا اور سرکاری اسکیمات پر عمل آوری کو مؤثر انداز میں ممکن بنانا ہے۔

TOPPOPULARRECENT