Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ٹمپل ٹورازم کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت سے مطالبہ

تلنگانہ میں ٹمپل ٹورازم کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت سے مطالبہ

ٹی آر ایس رکن پارلیمنٹ ونود کمار کی مرکزی وزیر سے نمائندگی
حیدرآباد۔ 24 جولائی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ ونود کمار نے تلنگانہ میں ٹیمپل ٹورازم کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت سے تعاون کی خواہش کی ہے۔ انہوں نے جنوبی ہند کی مشہور مندر ویملواڑہ اور دھرماپوری کو سیاحتی مراکز کی حیثیت سے ترقی دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان دونوں مقامات کو مرکز کی فہرست میں شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سابق میں ایک مرتبہ مرکزی وزیر سیاحت مہیش شرما سے اس سلسلے میں نمائندگی کرچکے ہیں۔ وقفہ سوالات کے دوران ونود کمار نے ویملواڑہ کی ترقی کیلئے فنڈس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر مہیش شرما نے کہا کہ ویملواڑہ اور دھرما پوری کو سیاحتی مقامات کی حیثیت سے ترقی دینے کا معاملہ مرکز میں زیرغور ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز سے فنڈس کی منظوری کے بعد اسے اسکیم کے تحت شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کی ترقی کیلئے مرکزی حکومت 180 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ بی ونود کمار نے سیاحت سے متعلق مرکز کی دو اسکیمات سودیش درشن اور پرساد کا حوالہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ ریاست نو قائم شدہ ہے اور مرکزی حکومت کو چاہئے کہ مذکورہ اسکیمات کے تحت ریاست کو زائد حصہ داری دے۔ سودیش درشن اسکیم کے تحت مرکز نے تلنگانہ کے لیے پراجیکٹ کو منظوری دی ہے جبکہ پرساد اسکیم کے تحت ایک بھی پراجیکٹ تلنگانہ کو گزشتہ تین برسوں میں منظور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے ویملواڑہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ جنوبی ہند میں کاشی کا درجہ رکھتی ہے۔ بڑی تعداد میں یاتری ویملواڑہ مندر کا درشن کرتے ہیں۔ کریم نگر میں دو مذہبی مراکز ہیں جن میں ایک دھرماپوری کا ویشنو مندرہے۔ریاستی حکومت کے عہدیداروں نے اسے مرکزی اسکیم کے تحت شامل کرنے کے لیے تجویز روانہ کی لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ونود کمار نے اس مسئلہ پر دو مرتبہ وزیر سیاحت سے نمائندگی کی۔ انہوں نے مرکزی وزیر سے خواہش کی کہ پرساد اسکیم کے تحت اس پراجیکٹ کو شامل کیا جائے۔ وزیر سیاحت ڈاکٹر مہیش شرما نے کہا کہ سودیش درشن اسکیم کے تحت اس پراجیکٹ کی شمولیت پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ تلنگانہ ریاست میں کئی مذہبی مقامات سیاحتی نقطہ نظر سے اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سودیش درشن اسکیم کے تحت 180 کروڑ مالیت سے تلنگانہ کو دو پراجیکٹس منظور کئے گئے جس کے کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ پرساد اسکیم خالص مذہبی و روحانی شہروں کے لیے ہے اور تاحال 25 شہروں کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ ایک جاریہ عمل ہے۔ اسکیم پر عمل آوری فنڈس کی دستیابی اور ریاستی حکومتوں کی درخواست پر منحصر ہے۔ انہوں نے آئندہ اجلاس میں ونود کمار کی تجویز پر غور کا تیقن دیا۔

TOPPOPULARRECENT