Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں چھوٹی اور متوسط صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر

تلنگانہ میں چھوٹی اور متوسط صنعتیں بند ہونے کے دہانے پر

مسلسل خسارہ سے پریشان کن صورتحال ، تقریبا 5 لاکھ افراد بے روزگار ہوجانے کا اندیشہ
حیدرآباد۔10 اپریل (سیاست نیوز) مالی سال 2017-18کے دوران چھوٹی اور متوسط صنعتوں کے 5لاکھ ملازمین بے روزگار ہوجائیں گے! ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے یہ ادعا کیا جا رہا ہے کہ حکومت جتنا روزگار فراہم کر رہی ہے اس سے کہیں زیادہ روزگار کی فراہمی خانگی صنعتوں کے ذریعہ ممکن ہو رہی ہے لیکن زمینی حقائق کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کئی ایسی صنعتیں ہیں جو بند ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں اور انہیں دوبارہ شروع کرنے کیلئے کوئی بینک آگے آنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ چھوٹی صنعتوں میں سرمایہ کاری کے مواقع اور ان کے آغاز میں ہونے والی دشواریوں کو دور کرنے کیلئے سابقہ حکومت آندھرا پردیش کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باعث سال 2011تک چھوٹی اور متوسط صنعتوں میں سرمایہ کاری تیز رہی لیکن اس کے بعد سے ان صنعتوں میں سرمایہ کاری میں بتدریج کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے اورکرنسی تنسیخ کے متعلق8نومبر 2016کو وزیر اعظم نریندر مودی کے فیصلہ کے فوری بعد ان چھوٹی صنعتوں اور متوسط صنعتوں کی حالت انتہائی ابتر ہونے لگی جس کے نتیجہ میں صورتحال اب تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں 69ہزار120چھوٹی اور متوسط صنعتیں موجود ہیں جن میں 7لاکھ62ہزار406 ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان 7لاکھ سے زائد افراد کا روزگار ان صنعتوں سے وابستہ ہے لیکن یہ صنعتیں خسارہ سے دوچار ہونے لگی ہیں اور ان صنعتوں کی حالت کو فوری بہتربنانے کے لئے ان کی مدد کیا جانا ناگزیر ہے لیکن بینکوں کی جانب سے انہیں قرضہ جات کی عدم فراہمی کے سبب مالکین صنعت بھی مالی مشکلات سے دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ اجلاس کے دوران پیش کی گئی سوشیو ۔ اکنامک رپورٹ میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں خانگی صنعتیں حکومت سے زیادہ روزگار کی فراہمی کو ممکن بنا رہی ہیں ۔ چھوٹی صنعتوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں حکومت کی جانب سے ان صنعتوں کو فراہم کی جانے والی گرانٹ کی عدم اجرائی بھی صورتحال کو ابتر بنانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاست میں 80فیصد صنعتیں غیر کارکرد ہوچکی ہیں اور ان کے متعلق یہ رپورٹ دی جا رہی ہے کہ ان کا دوبارہ احیاء کیا جانا ناممکن ہے۔ اسی طرح صرف 7فیصد صنعتیں یعنی 632 صنعتیں ایسی ہیں جو منافع بخش تصور کی جا رہی ہیں۔ ریاست میں منافع میں چلائی جانے والی صنعتوں سے زیادہ خسارہ میں چلائی جانے والی صنعتوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ انڈسٹریل ہیلت کلینک کے آغاز کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے اور ان انڈسٹریل ہیلت کلینکس کے آغاز کے بعد سے ان صنعتوں کی حالت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے جو منافع بخش ثابت ہوسکتی ہیں۔ صنعتوں کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ریاست میں خانگی صنعتوں میں خدمات انجام دینے والے 5لاکھ سے زائد افراد بے روزگار ہوجائیں گے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT