Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں ڈینگو بخار کی وباء پھیلنے کا اندیشہ

تلنگانہ میں ڈینگو بخار کی وباء پھیلنے کا اندیشہ

پانی ٹھہرنے نہ دیں‘ مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہنے کا مشورہ
حیدرآباد۔ 25جولائی ( سیاست ڈاٹ کام)موسم برسات کی بیماریو ںنے رفتہ رفتہ حیدرآباد اور تلنگانہ کے دوسرے مقامات پر پھیلنا شروع کردیا ہے اور ڈینگو بخار کی وباء پھیلنے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جولائی آنے کے ساتھ ہی اضلاع اور ریاست کے دارالحکومت میں ہر سال مچھروں کی افزائش کے کئی مقامات بن جاتے ہیں۔جو ایسی موسمیاتی بیماریوں کے پھیلنے کی اصل وجہ ہے۔ ڈینگو بخار جیسی بیماریوں کے علاج کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔گورنمنٹ ہاسپٹلس میں ڈینگو کے مریضوں کے علاج کے لئے محدود سہولتیں ہیں۔ جس کے باعث اس مرض کے شکار بیشتر مریضوں کو علاج کے لئے خانگی دواخانوں سے رجوع ہونا پڑتا ہے۔ دواخانہ کی نوعیت کے لحاظ سے مریضوں کو علاج کے لئے 30,000 روپے سے لیکر 50,000روپے تک بل ادا کرناضروری ہوتا ہے اوربعض کیسس میں علاج کے اخراجات اس سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔اسوسی ایٹ پروفیسر ( زوالوجی) عثمانیہ یونیورسٹی ریڈیانائک نے بتایا’’ ڈینگو ملیریا اورچکن گنیا جیسی بیماریوں کے علاج کا کفایتی طریقہ یہ ہے کہ مچھروں کی افزائش کو روکا جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ بلدیہ کے عہدیداروں اور محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے اجتماعی کوشش کی جائے ۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اس بیماری کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ مناسب ترین مچھر کش اقدامات کئے جائیں‘‘۔ ڈینگو وائرس ایک خاص قسم کے مچھر سے ہوتا ہے جو سائز میں بڑا ہوتا ہے اور جس پر سفید دھبے ہوتے ہیں ۔یہ مچھر اس مچھر کی طرح نہیں ہوتا ہے جو ملیریا پھیلاتا ہے ۔ ڈینگو پھیلانے والے مچھروں کی افزائش صاف پانی میں ہوتی ہے اور یہ مچھر بارش کے پانی کے پولس‘ ٹائرس میں جمع ہونے والے پانی ‘ناریل کے خولوں وغیرہ میں افزائش پاتے ہیں اور لہٰذا یہ مچھر شہری ماحول میںفروغ پاسکتے ہیں۔ کچھواچھاپ بتی ‘ آل آئوٹ وغیرہ کے استعمال سے ان مچھروں کو کاٹنے سے روکا نہیں جاسکتا اور ڈینگو پر کنٹرول ملیریا کے مقابلہ میں مشکل ہوتا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ فیور ہاسپٹل کے شنکر نے بتایا’’ مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لئے احتیاطی اقدامات اور پانی کو زیادہ دیر تک جمع رہنے سے روکتے ہوئے لوگ ڈینگو سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ڈینگو سے بچنے کے لئے یہ احتیاطی اقدامات بھی کئے جانے چاہئیں کہ گھروں اور ان کی اطراف واکناف کے ماحول کو پاک و صاف رکھنا چاہئے۔ پانی کو ٹہرنے نہیں دیناچاہئے اور پرانے ٹائرس اور ایرکولرس وغیرہ پر نظررکھتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ کہیں ان میں پانی تو نہیں جمع ہوگیا ہے اور اگر ان میں پانی جمع ہوگیا ہے تو اس کی فوری صفائی کردی جانی چاہئے۔ موریوں کو ٹھیک ٹھاک حالت میں رکھنا چاہئے اور اگران میں کہیںپر شگاف پڑگئے ہیں اور گندا پانی بہہ رہا ہے توان شگافوں کو بند کردینا چاہئے۔اس بیماری کی فوری طورپر تشخیص کی جانی چاہئے ۔کیونکہ اگر علاج نہ کیاگیا تو مریضوں کی حالت بگڑسکتی ہے اورشدید نوعیت کا ڈینگو بخار ہوسکتا ہے‘‘۔ فزیشین اپولو ہاسپٹل حیدر گوڑہ ڈاکٹر بی ہری کشن نے کہا ’’ ڈینگو کی علامات یہ ہیں کہ ڈینگو کے مریضوں کو آنکھوں کے پیچھے درد ہوتا ہے۔ پیٹھ میں بے انتہا تکلیف ہوتی ہے ۔بخار آجاتا ہے۔ناک سے خون بہتا ہے اور جلد سے خون رستا ہے۔ شدید نوعیت کے کیس میں بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے۔ سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔گردے ناکارہ ہوجاتے ہیں اور یرقان بھی ہوجاتا ہے‘‘۔ وی پی میڈیکل سرویسس یشودھا ہاسپٹلس بی بالراجونے بتایا’’ ڈینگو کے مریضوں کا علاج صرف علامات کی بنیاد پر کیاجاتا ہے اور 24گھنٹے نظررکھی جاتی ہے۔ اگر 48 گھنٹے سے زیادہ وقت تک کافی زیادہ بخار ہو تو ڈاکٹرس سے رجوع ہونا چاہئے اور اپنا علاج آپ نہیں کرلیناچاہئے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT