Friday , July 28 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں کابینی وزراء سے زیادہ وزراء کے مماثل مشیروں کا خرچ

تلنگانہ میں کابینی وزراء سے زیادہ وزراء کے مماثل مشیروں کا خرچ

ماہانہ ایک کروڑ کا خرچ ، سرکاری مراعات ، ریونت ریڈی تلگو دیشم کا مشیروں کی اہلیت پر چیالنج
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں کابینی وزراء سے زیادہ کابینی وزراء کا درجہ رکھنے والوں کی تعداد ہے جو کابینی وزیر کے مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ ریاست کے جملہ وزراء بشمول چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ 18ہیں لیکن اس کے برعکس ریاست میں کابینی وزیر کا درجہ رکھنے والے مشیران حکومت و صدور نشین اور نمائندوں کی تعداد 23تک پہنچ چکی ہے جنہیں ایک لاکھ روپئے ماہانہ تنخواہ ‘ 50ہزار روپئے مکان کا کرایہ کے علاوہ میڈیکل کی سہولتیں اور آل انڈیا سروس عہدیداروں کے برابر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریٹائرڈ ہونے والے عہدیداروں اور سیاسی قائدین کو مشیر کی حیثیت سے نامزد کرتے ہوئے انہیں کابینی درجہ دیئے جانے کے سلسلہ کو دیکھتے ہوئے تلگو دیشم رکن اسمبلی مسٹر اے ریونت ریڈی نے حیدرآباد ہائی کورٹ سے رجوع ہوتے ہوئے حکومت کے ان اقدامات کے خلاف درخواست داخل کی تھی جس پر نگران چیف جسٹس حیدرآباد ہائی کورٹ نے حکومت کے علاوہ تمام 23کابینی درجہ کے حامل ذمہ داروں کو نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس رمیش رنگا ناتھن نے مقدمہ کی سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل کے راما کرشنا ریڈی سے دریافت کیا کہ حکومت تلنگانہ نے کس قانون کے تحت یہ نامزدگیاں عمل میں لائی ہیں جس پر ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کسی قانون کا سہارا لیتے ہوئے یہ نامزدگیاں عمل میں نہیں لائی ہیں بلکہ اپنے اختیار تمیزی کا استعمال کرتے ہوئے ان 23شخصیتوں کو کابینی وزیر کا درجہ دیا ہے۔ رکن اسمبلی تلگو دیشم مسٹر اے ریونت ریڈی نے عدالت میں داخل کردہ درخواست میں حکومت کی جانب سے مشیر وں کی نامزدگی اور انہیں کابینی درجہ دیئے جانے کے عمل کو چیالنج کیا تھا۔ ذرائع کے بموجب ریاستی حکومت کی جانب سے ان 23 کابینی وزیر کا درجہ رکھنے والوں پر ماہانا ایک کروڑ سے زائد کے خرچ کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے ۔ ریونت ریڈی نے کابینی درجہ کے حامل ان شخصیتوں کی اہلیت کو بھی چیالنج کیا ہے۔ حکومت تلنگانہ نے جن افراد کو ریاستی حکومت کے مشیر کی حیثیت سے نامزد کیا ہے ان میں جناب عبدالقیوم خان مشیر برائے اقلیتی امور‘ مسٹر جی ویویکا نند مشیر برائے داخلی امور‘ مسٹر کے وی رمنا چاری مشیر برائے کلچر‘ میڈیاو ٹورازم افئیرس ‘ مسٹر جی آر ریڈی مشیر برائے مالی امور‘ آر ودیا ساگر مشیر برائے آبی امور‘ ایس سدھاکر تیجا مشیر برائے واستو امور‘ بی ۔وی ۔پاپا راؤ مشیر برائے پالیسی امور‘ اے ۔ کے ۔ گوئل مشیر برائے منصوبہ بندی و برقی‘ راجیو شرما مشیر برائے ریاستی حکومت‘ راما لکشمن مشیر برائے بہبود شامل ہیں ان کے علاوہ دہلی میں ریاست تلنگانہ کے خصوصی نمائندوں کی حیثیت سے موجود مسٹر ایس وینو گوپال چاری اور مسٹر رامچندروڈو تیجاوت کو بھی کابینی وزیر کا درجہ دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مختلف کارپوریشن کے صدورنشین کے عہدوں کو کابینی درجہ کا حامل بناتے ہوئے انہیں بھی کابینی وزیر کو حاصل مراعات فراہم کی جانے لگی ہیں۔تلگو دیشم پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ان افراد کو کابینی حیثیت فراہم کرتے ہوئے ان کی بے روزگاری کے خاتمہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ریاستی حکومت ان نامزدگیوں کے ذریعہ سیاسی روزگار کی فراہمی میں مصروف ہے۔

TOPPOPULARRECENT