Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کالجس زیادہ، معیار تعلیم کم

تلنگانہ میں کالجس زیادہ، معیار تعلیم کم

گزشتہ 2 برسوں کے دوران داخلے گھٹ گئے
حیدرآباد 18 ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کئے گئے ایک تازہ سروے میں کہا گیا کہ ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی تعداد تو بڑھ گئی ہے لیکن طلباء و طالبات کے داخلوں کی تعداد گھٹ گئی ہے۔ اس طرح تعلیم کے معیار پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ حکومت نے خانگی کالجس کے قیام کی اجازت دینے میں کافی فراخدلانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ گزشتہ دو تین برسوں کے دوران اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ لیکن داخلوں کا رجحان کم ہوگیا ہے۔ سال 2016 ء میں ملک کی ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کے موقف سے متعلق رپورٹ 15 ڈسمبر کو جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ سال 2015 ء میں کالجس کی تعداد 2 ہزار 252 تھی جو اس سال بڑھ کر 2 ہزار 5 سو 36 ہوگئی۔ جبکہ طلبہ کی تعداد جو 2015 ء میں 13 لاکھ 76 ہزار تھی ، 2016 ء میں گھٹ کر 12 لاکھ 79 ہزار ہوگئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی طرف سے خانگی اداروں کو کالجس کے قیام کی اجازت دینے کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ بیشتر کالجس معیار تعلیم فراہم کئے بغیر محض کاروبار کررہے ہیں۔ پرائیوٹ مینجمنٹس کالجس تو قائم کررہے ہیں لیکن تعلیم مقررہ معیار کے مطابق نہیں ہے۔ CII DECOITTE کی سالانہ رپورٹ میں یہ تمام باتیں بتائی گئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT