Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کانگریس کا نام و نشانہ بھی نہیں رہے گا

تلنگانہ میں کانگریس کا نام و نشانہ بھی نہیں رہے گا

حالیہ انتخابات میں شکست کے باوجود سبق نہیں سیکھا ، وزیر فینانس ای راجندر کا ریمارک

حیدرآباد ۔ 19 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت نے اس مرتبہ حقائق پر مبنی و عوامی بہبودی بجٹ کو ایوان میں پیش کیا ہے جب کہ اس بجٹ کے ذریعہ ریاست تلنگانہ کو فلاح و بہبودی موقف حاصل ہوا ہے ۔ اس طرح حکومت تلنگانہ بجٹ میں مختص کی جانے والی رقومات کو مکمل طور پر خرچ کرنے کی ممکنہ کوشش ضرور کرے گی لیکن سابق میں برسر اقتدار کانگریس و دیگر حکومتوں نے کبھی بھی 80 فیصد مختص کردہ بجٹ رقومات خرچ نہیں کی تھیں ۔ آج یہاں تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پر ہوئے مباحث کے اختتام پر اپنا جواب دیتے ہوئے وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے یہ بات کہی اور بتایا کہ نہ صرف ریاست بلکہ ملک کی کسی ریاست میں آج تک صد فیصد مختص کردہ بجٹ رقومات کے خرچ کرنے کی کوئی نظیر یا مثالی ہرگز نہیں ملے گی ۔ انہوں نے کانگریس کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کانگریس برسراقتدار تھی تب وہ صرف دولت بٹورنے میں مصروف رہی اور بجٹ میں مختص کی جانے والی رقومات کو خرچ کرنے پر کبھی توجہ نہیں دی ۔ جب کہ تلنگانہ حکومت نے سال 2015-16 بجٹ میں مختص کردہ رقومات کے منجملہ زائد از 86 فیصد بجٹ رقومات خرچ کئے ۔ وزیر موصوف نے گذشتہ عرصہ کے دوران منعقدہ انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ورنگل ، نارائن کھیڑ ، کھمم اور حیدرآباد بلدی انتخابات میں عوام نے کانگریس پارٹی کو زبردست سبق سکھایا ۔ اس کے باوجود کانگریس پارٹی اس سبق کو سمجھ نہیں پائی ہے ۔ مسٹر راجندر نے کہا کہ 14 سال تک جاری رہنے والی جدوجہد کے دوران اسی ایوان میں کانگریس و دیگر حکومتوں نے عوام کی توہین کرنے جیسی باتیں کی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی منشور ہمارے لیے ( ٹی آر ایس کے لیے ) بہت مقدس تصور کیا جاتا ہے اور اس تقدس کے پیش نظر ہی ہم نے انتخابی منشور میں عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرنے کی مکمل کوشش کررہے ہیں ۔ اس طرح ریاست تلنگانہ میں فلاح و بہبود پر مشتمل اتنے بڑے پروگرامس و اقدامات کئے گئے کہ اس کی مثال ملک کی کسی اور ریاست میں حاصل نہیں ہوسکے گی اور جن پروگراموں کو شروع کیا گیا ان پر موثر عمل آوری کی گئی ۔ مسٹر راجندر نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ و اقلیتی طبقات کی و فلاح و بہبود پر 16,169 کروڑ روپئے بجٹ رقومات مختص کئے گئے اور کہا کہ بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کے مقصد سے تفصیلی غور و خوص کے بعد ہی بجٹ مرتب کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ 20 ماہ کے دوران ریاست تلنگانہ میں 5700 کیلو میٹر طویل شاہراہوں کے مرمتی کام انجام دئیے گئے اور 800 کیلو میٹر طویل نئی شاہراہیں تعمیر کی گئیں ۔ وزیر فینانس نے مزید کہا کہ کانگریس حکومت نے اپنے دس سالہ دور اقتدار میں محکمہ عمارات و شوارع کے لیے صرف 7 ہزار کروڑ روپئے ہی بجٹ رقومات مختص کی تھی لیکن ہم ( ٹی آر ایس ) اقتدار سنبھالنے کے ( 20 ) ماہ کے دوران ہی 7 ہزار کروڑ روپئے نہ صرف مختص کئے بلکہ خرچ بھی کئے ۔ مسٹر راجندر نے اپوزیشن جماعتوں کو حدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کے پیش کردہ عوامی بہبودی بجٹ کو دیکھے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہے اور عوام کی زبردست ستائش حکومت کو حاصل ہورہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اب آئندہ اپوزیشن بالخصوص کانگریس پارٹی پر ریاست تلنگانہ کے عوام ہرگز بھروسہ کرنے والے نہیں ہیں اور کانگریس پارٹی کا اتہ پتہ بھی نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے کوئی ایک صنعت بھی بند نہیں ہوئی بلکہ جتنی صنعتیں تلنگانہ میں بند ہوئی ہیں وہ تمام کی تمام سابق کانگریس اور تلگو دیشم حکومتوں میں ہی بند ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں خاندان مالی پریشانیوں سے دوچار ہوئے ہیں ۔ مسٹر ای راجندر نے ریاست میں امن وضبط کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اقدامات کی وجہ سے آج ریاست تلنگانہ ملک بھر میں سب سے کم جرائم شرح رکھنے والی ریاست کا موقف حاصل کرے گی ۔ اس کے علاوہ ریاست میں امن و ضبط کی بہتر انداز میں برقراری کے لیے حکومت نے ’ کمانڈ کنٹرول سنٹر ‘ قائم کررہی ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ سابق میں اپوزیشن جماعتیں ریاست کی تقسیم ہونے پر تلنگانہ میں فرقہ وارانہ واقعات پیش آنے کی افواہیں پھیلائی تھیں لیکن آج ہر جگہ بشمول شہر حیدرآباد میں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کافی بہتر ہے ۔ لہذا آج ملک کی کئی ریاستوں کو تلنگانہ کے تعلق مکمل بھروسہ و اعتماد پایا جارہا ہے کیوں کہ ٹی آر ایس حکومت نے ا پنی اسکیمات و پروگرامس محض ووٹوں کے حصول اور اقتدار حاصل کرنے کے لیے مرتب نہیں کی ہیں ۔ مسٹر ای راجندر نے کہا کہ محض عوام میں بنا بھروسہ پیدا کرنے اور عوامی توقعات کے مطابق ہی ریاستی بجٹ پیش کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT