Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں کانگریس کی بقا خطرے میں ، ہائی کمان متفکر

تلنگانہ میں کانگریس کی بقا خطرے میں ، ہائی کمان متفکر

پارٹی قائدین کا ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا رجحان روکنے نئے عہدوں کی جمبو فہرست جاری
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : کانگریس ہائی کمان کو ریاست تلنگانہ میں پارٹی کی بقا کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ ٹی آر ایس پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پردیش کانگریس سے وابستہ کئی قائدین کارکنوں اور ورکرس نے حکمراں پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔ ٹی آر ایس قیادت نے جب سے یہ عہد کیا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں کانگریس کے وجود کو ختم کر کے ہی دم لیا جائے گا ۔ کانگریس ہائی کمان کو پارٹی کی بقا کے لیے متبادل اقدامات کرتے دیکھا جارہا ہے ۔ ہائی کمان نے کانگریس کے لیے عہدیداروں کی ایک جمبو فہرست جاری کی ہے ۔ تلنگانہ کے لیے کانگریس کے 13 نائب صدور ہوں گے ۔ 31 جنرل سکریٹریز اور 35 عاملہ ارکان ہوں گے ۔ اس کے علاوہ 31 رکنی رابطہ کمیٹی بھی ہوگی ۔ سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے جانا ریڈی اور قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر بھی عاملہ ارکان میں شامل کئے گئے ہیں ۔ نندی ایلیا ایم پی ، سبیتا اندرا ریڈی اور پونم پربھاکر کو پارٹی کے نائب صدور بنایا گیا ہے جب کہ جی نارائن ریڈی خازن ہوں گے ۔ گوا میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات کو مد نظر رکھ کر کانگریس ہائی کمان نے 17 رکنی ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دی ہے ۔ تلنگانہ میں جب سے ٹی آر ایس نے اقتدار سنبھالا ہے ۔ کانگریس کی ساکھ دن بہ دن گرتی جارہی ہے ۔ ٹی ار ایس میں اب تک ہزاروں کانگریس ورکرس نے شمولیت اختیار کی ۔ حکمراں پارٹی کی جانب سے اب یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ پردیش کانگریس کی اعلیٰ قیادت کو بھی پارٹی صف میں شامل کرے گی ۔ پردیش کانگریس کی اعلی قیادت کو ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی ترغیب دی جارہی ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلہ میں کوشش کی جارہی ہے کہ ریاستی کانگریس کے بااثر قائدین کو ٹی آر ایس کارکن بنایا جائے ۔ طویل مدت تک حکومت میں کابینی وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے کانگریس لیڈر سے بہت پہلے ہی ربط پیدا کرلیا گیا تھا ۔ ٹی آر ایس کا اصل منشاء ریاست میں کانگریس کا صفایا کرناہے تاکہ 2019 کے عام انتخابات کے لیے کانگریس کے پاس کوئی بااثر اور مضبوط لیڈر باقی نہ رہے ۔ کانگریس پارٹی کو تلنگانہ اسمبلی میں اصل اپوزیشن کا موقف ختم ہونے کا خدشہ لگا ہوا ہے ۔ حکمراں پارٹی میں کانگریس قائدین کی شمولیت اور پارٹی سے انحراف کے سلسلہ کو روکنے میں کانگریس ہائی کمان کی ناکامی پر بھی پردیش کانگریس کے قائدین بھی ناراض ہیں ۔ مرکز کے علاوہ ریاستی کانگریس قیادت میں پارٹی سے انحراف کرنے والے قائدین کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ اس کی وجہ سے پارٹی ورکرس اور کیڈرس میں عدم اعتماد فضاء پیدا ہورہی ہے ۔ پارٹی کے اندر بحران میں اس وقت اضافہ ہوا جب سی رام موہن ریڈی ایم ایل اے مکتھل نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی ۔ جب کہ وہ کانگریس کی سابق وزیر ڈی کے ارونا کے بھائی ہیں ۔ ان کا خاندان اس ضلع میں مضبوط سیاسی اثر رکھتا ہے ۔ ٹی آر ایس کی جانب جھکاؤ کے بعد ضلع محبوب نگر میں کانگریس کی ساکھ متاثر ہورہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT