Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں کودنڈا رام۔آندھرا میں مدرا گڈا پدمنابھم

تلنگانہ میں کودنڈا رام۔آندھرا میں مدرا گڈا پدمنابھم

دو سال کے بعد عوامی تحریک ؟
حیدرآباد۔ 8جون (سیاست نیوز) ریاست کی تقسیم کے بعدآندھرا پردیش اور تلنگانہ میں بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کرنے والی تلگو دیشم اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو دو برسوں میں کوئی سخت اپوزیشن کا سامنا نہیں رہا اور کوئی سیاسی جماعت حکومت کے خلاف سخت اپوزیشن ثابت نہیںہوئی لیکن دونوں ریاستوں کی حکومت کو اب عوامی تحریکات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں پروفیسر کوڈنڈا رام کے حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ریاست میں ایک مرتبہ پھر تلنگانہ تحریک کی طرح طلبہ تحریک شروع ہونے کے خدشات سے حکومت خوفزدہ نظر آرہی ہے۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں بی سی قائد مدرا گڈا پدنابھم کی جانب سے چلائی جا رہی کاپو تحفظات تحریک حکومت آندھرا پردیش کو پریشان کئے ہوئے ہے۔ حکومت تلنگانہ کی دو برس کی کارکردگی پر پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی نے جو سوال اٹھائے اس پر حکومت نے جس طرح سے ردعمل ظاہر کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کو کسی سیاسی جماعت سے زیادہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے خطرہ ہے۔ پروفیسر کوڈنڈارام ریڈی جوتحریک تلنگانہ میں سرگرم تھے اور گزشتہ دو برسوں سے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے

لیکن اب جبکہ تلنگانہ کا دوسرا یوم تاسیس منایا گیا تب انہوں نے حکومت کے اعلانات اور ان پر عمل آوری کے متعلق اٹھانے شروع کئے جس پر حکومت کے تمام وزراء نے جوابی حملے شروع کر دیئے جبکہ حصول تلنگانہ کیلئے ٹی آر ایس نے طلبہ برادری کو تحریک سے وابستہ رکھنے کیلئے پروفیسر جئے شنکر اور پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی کے ہاتھوں تحریک تلنگانہ کی کمان دے رکھی تھی۔ اقتدار کے حصول کے بعد نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی ‘ مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی اور دیگر فلاحی اقدامات کے اعلانات کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی عمل نہ کئے جانے پر اپوزیشن نے متعدد مرتبہ تنقیدیں کیں لیکن اس پر حکومت نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا بلکہ خاموش تماشائی بنی رہی لیکن پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی کی زبان کھلتے ہی ساری کابینہ نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے یہ تاثر دیدیا ہے کہ ریاست میں کوڈنڈا رام اپنی علحدہ طاقت رکھتے ہیں اور ایک مرتبہ پھر وہ طلبہ کی تحریک کا آغاز کرتے ہوئے حکومت کو للکارنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ ٹی آر ایس کی جانب سے اپوزیشن کو کمزور کرنے کی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف پروفیسر کوڈنڈا رام ریڈی جنہیں ’’ تلنگانہ گاندھی ‘‘ کہا جاتا ہے کے ایک بیان پر ہنگامہ حکومت کے خوف کو آشکار کر رہا ہے۔ اسی طرح ریاست آندھرا پردیش میں تلگو دیشم نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپوزیشن کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں اور ان پر اب تک بھی عمل کیا جا رہا ہے۔ تلگودیشم حکومت کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن کاپو تحفظات کا مطالبہ کر رہے بی سی قائد مدرا گڈا پدمنابھم نے حکومت آندھرا پردیش کی ناک میں دم کر رکھا ہے اور اس مسئلہ پر وہ تیزی کے ساتھ عوامی مقبولیت حاصل کرتے جا رہے ہیں جو کہ حکومت کے لئے تکلیف دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ میں برسر اقتدار جماعتوں کی جانب سے عوامی مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے من مانی چلائی جا رہی تھی لیکن اب دونوں ریاستوں میں عوامی قائدین کی جانب سے شروع ہونے والی تحریک حکومت کیلئے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

ریاست آندھرا پردیش میں کاپو تحفظات تحریک میں پیدا ہوتی جا رہی شدت کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت آندھرا پردیش پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے اور اتنا ہی نہیں کاپو طبقہ کیلئے جاری تحریک کا اثر ریاست تلنگانہ میں مسلم تحفظات کی تحریک پر بھی ہونے کا امکان ہے چونکہ کوڈنڈا رام ریڈی نے تلنگانہ میں 12فیصد مسلم تحفظات کے وعدے کو بھی حکومت کی دھوکہ دہی کی فہرست میں شامل کر لیا ہے اور یہ سوال کیا کہ آخر مسلمانوں کو کیوں دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ آندھرا پردیش میں بی سی قائد مدراگڈا کو حاصل ہونے والی عوامی تائید سے حکومت میں بے چینی پائی جاتی ہے اور حکومت کی جانب سے اس تحریک کو بغیر کسی تشدد کے ختم کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دونوں ریاستوں کی حکومتوں کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے پریشان اپوزیشن سیاسی جماعتیں ان تحریکات کے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور یہ دعوی کر رہی ہیں کہ ریاستوں میں مضبوط اپوزیشن نہ ہونے کے سبب یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں پروفیسر کوڈنڈا رام کو جامعات کے طلبہ کی جس طرح غیر مشروط تائید حاصل ہے اسی طرح مدراگڈا کو بھی آندھرا پردیش کے جامعات کے طلبہ و پسماندہ طبقات کی غیر مشروط تائید حاصل ہوتی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT