Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ میں گرمی قہر برسا رہی ہے ۔ تاحال 66 افراد فوت

تلنگانہ میں گرمی قہر برسا رہی ہے ۔ تاحال 66 افراد فوت

آئندہ دنوں میں شدت میں مزید اضافہ کا انتباہ ۔ شہریوں کو احتیاط برتنے کا مشورہ ۔ محبوب نگر میں سب سے زیادہ 28 اموات ۔ حیدرآباد و رنگا ریڈی محفوظ

حیدرآباد 7 اپریل ( سیاست نیوز ) سال رواں چلچلاتی دھوپ اور گرمی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے ۔ گرمی کی اس شدید لہر نے اب تک ریاست تلنگانہ میں 66 جانیں لے لی ہیں۔ ابھی صرف ماہ اپریل کا پہلا ہی ہفتہ ہے اور مزید دو ماہ تک گرما کا موسم رہے گا ۔ ابتدائی وقتوں میں ہی گرمی نے اپنا قہر ڈھانا شروع کردیا ہے اور یہ گرمی انسانی جانوں کے اتلاف کا سبب بن رہی ہے ۔ خود حکومت نے جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں ان کے مطابق اب تک ریاست میں 66 افراد شدت کی گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ خود سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صرف سرکاری اعداد و شمار ہیں اور ہلاکتوںکی حقیقی تعداد مزید زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بیشتر معاملات میں ایسی اموات کی اطلاع سرکاری حکام کو نہیں ملتی ۔ شدت کی گرمی کی وجہ سے ریاست میں سب سے زیادہ اموات ضلع محبوب نگر میں ہوئی ہیں۔ یہاں 28 افراد گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کے معاملہ میں میدک دوسرے نمبر پر ہے ۔ یہاں 11 اموات ہوئی ہیں۔ نظا م آباد میں 7 کریمنگر و کھمم میں پانچ پانچ افراد فوت ہوئے ہیں جبکہ ورنگل و عادل آباد میں چار چار اور ضلع نلگنڈہ میں دو اموات گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ دارالحکومت حیدرآباد اور پڑوسی ضلع رنگا ریڈی میںابھی تک گرمی اور لو لگنے کی وجہ سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے ۔ ہلاکتوں کے واقعات ابتدائی اشارے ہی کہے جاسکتے ہیں کیونکہ آئندہ دنوں میں موسم مزید شدت اختیار کرسکتا ہے اور گرمی کی لہر اور شدت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ محکمہ موسمیات نے بھی خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔

دن کے ایام میں پہلے ہی درجہ حرارت 40 ڈگری سلسئیس سے پار ہوچکا ہے اور رات کے درجہ حرارت میں بھی معمول سے تین ڈگری زیادہ کا اضافہ درج کیا جارہا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے عہدیداروں نے تاہم کہا ہے کہ اگادی تہوار کے دوران گرمی کی شدت سے قدرے راحت مل سکتی ہے ۔ محکمہ کے بموجب تہوار کے دوران گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔ کریمنگر ‘ نظام آباد اور عادل آباد کے کچھ حصوں میں حالانکہ ایک دن قبل گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی لیکن منگل کو یہاں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ بارش اور ہواؤں کی وجہ سے گرمی سے جو راحت ملی تھی وہ صرف چند گھنٹوں کیلئے تھی ۔ کریمنگر ‘ کھمم ‘ ورنگل اور عادل آباد کے کوئلہ کی کانوں والے علاقوں میں بھی شدت کی گرمی کی لہر چل رہی ہے ۔ یہاں درجہ حرارت معمول سے 4 تا 5 ڈگری سلسئیس زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے ۔ اس دوران ڈیزاسٹر مینجمنٹ ونگ کے عہدیداروں نے بتایا کہ شدت کی گرمی اور لو لگنے سے فوت ہونے والوں کی اکثریت زرعی مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی ہے جن کے پاس گذر بسر کیلئے محنت مزدوری کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا ۔ واضح رہے کہ جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش اورتلنگانہ میں گذشتہ سال گرمی کی شدت سے 2,000 سے زیادہ افراد فوت ہوئے تھے ۔ لو لگنے سے اموات کی بھاری تعداد کو دیکھتے ہوئے سرکاری مشنری نے حرکت میں آتے ہوئے تمام عوامی نگہداشت صحت کے مراکز پر او آر ایس کے پیاکٹس پہونچائے ہیں تاکہ متاثرین کو ڈی ہائیڈریشن سے بچایا جاسکے ۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے بھی شعور بیداری مہم شروع کی گئی ہے اور عوام کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ دھوپ اور لو سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT