Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 12فیصدمسلم آبادی کے باوجود 0.4فیصدسرکاری ملازمتیں

تلنگانہ میں 12فیصدمسلم آبادی کے باوجود 0.4فیصدسرکاری ملازمتیں

مسلم اقلیت کو تحفظات کی فراہمی کیلئے سیاست کی تحریک ‘آبادی سے متناسب روزگار کی ضامن ‘ شہر اور اضلاع میں یادداشتوں کی پیشکشی

حیدرآباد۔28ستمبر ( سیاست نیوز) خواہش سے کامیابی نہیں ملتی بلکہ کوشش سے کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ تلنگانہ کے مسلمان اب اس اندازفکر سے تحفظات کیلئے جاری ’’سیاست کی تحریک‘‘ سے جڑ رہے ہیں اور جدوجہد کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کا جذبہ رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ مسلمانان تلنگانہ انتخابی منشور اور اپنی تقریر میں  چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے وعدے کو پورا کرنے اور تقررات سے قبل 12فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ تحفظات کی صورت میں اپنے دستوری حق کیلئے مسلمانوں کی جانب سے جاری مہم جو ’سیاست‘ کی جانب سے چلائی جارہی ہے اب ایک زبردست تحریک کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔ عموماً امتحان کی آخری تاریخ میں توسیع کیلئے مطالبہ کرنے والے مسلمان اب متحدہ طور پر تحفظات کیلئے زور دے رہے ہیں تاکہ تعلیمی اور روزگار کے میدان میں اپنی عظمت رفتہ کو بحال کیا جاسکے اور یہ ایک ایسا موقع تصور کیا جارہا ہے جس کی مدد سے مسلمان سرکاری ملازمتوں  میں 0.4فیصد پائے جانے والے اپنے فیصد کو 12فیصد تک پہنچا سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ تلنگانہ کے سرکاری ڈھانچہ میں مسلمان صرف 0.4 فیصد پائے جاتے ہیں جبکہ آبادی کے لحاظ سے ان کا تناسب 12فیصد سے زائد ہونا چاہیئے ۔ مسلمانوں کی اس ابتر صورتحال کو دیکھ کر خوشحال تلنگانہ کی تعمیر کے پابند چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ‘ تاہم اس وعدہ پر عمل آوری میں تاخیر اور دوسری طرف آہستہ آہستہ ملازمتوں کے اعلامیہ کی اجرائی مسلمانوں میں تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ روزنامہ ’’سیاست‘‘  نے اپنی صحافتی دیانتداری نبھاتے ہوئے مسلمانوں کے مسئلہ پر عوام کا شعور اُجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں کے حق کی بات کی اور مہم کا آغاز کیا ۔ اس آواز پر کل سے شروع ہونے والے اسمبلی اجلاس میں مسلمانوں کے کاز پر سبقت لے جانے کی ہر جماعت کوشش کررہی ہے اور کون مسلمانوں کا حقیقی ہمدرد ہے یہ اسمبلی اجلاس میں ظاہر ہوجائے گا  یا پھر ان جماعتوں کی مسلمانوں کے تعلق سے صرف زبانی جمع خرچ ہے اس کا بھی اندازہ اور ان کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آجائے گا ۔ سدی پیٹ کے ایک وفد نے آج روزنامہ ’سیاست‘  کے دفتر پہنچ کر جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر سیاست سے ملاقات کی اور مسلمانوں کی ترقی کے تعلق سے سیاست کی فکر اور کوششوں کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ سیاست کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ مسلم قوم کے ہر سنگین مسئلہ پر ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور ہمیشہ مسلمانوں کے حق میں کھڑا ہونے کا سہرہ بھی سیاست کے ذمہ داروں کو ہی جاتا ہے ۔ اس وفد میں صدر سدی پیٹ فاؤنڈیشن جناب سعادت نظیر ‘ علیم الدین ‘ امان ‘ حافظ مجید ‘ عبدالواحد ‘ اشرف ‘ امتیاز ‘ افروز ‘ کرانتی کرن ‘ امتیاز ‘ نمائندہ سیاست و سینئر صحافی کلیم الرحمن دیگر موجود تھے ۔ روزنامہ سیاست  کی جانب سے شروع کردہ 12فیصد مسلم تحفظات تحریک کے تحت نظام آباد میں دستخطی مہم کا آغاز ہوگیا ۔ عیدالاضحی کے موقع پر قدیم عیدگاہ ‘ جدید عیدگاہ ‘ مدینہ عیدگاہ ‘ عیدگاہ اہلحدیث کے علاوہ شہر کے 10مساجد میں دستخطی مہم جاری ہیں ۔ مسلم لیگ کے ضلع صدر ایم اے مقیت ‘ ریاستی سکریٹری عبدالغنی کی قیادت میں 10 ہزار سے زائد دستخطیں حاصل کی گئی ۔ ان قائدین نے بتایا کہ اس مہم کے تحت ایک لاکھ دستخطیں حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور ان دستخطوں کو نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان کے حوالے کیا جائے گا ۔ بھینسہ ٹاؤن میں شہر کی مختلف سیاسی ‘ سماجی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے تلنگانہ حکومت  پر دباؤ ڈالنے کیلئے نمائندگیوں کا سلسلہ جاریہے ۔ بھینسہ شہر میں آج ٹرینڈیو ٹیچر یونین کے ایک وفد نے تحصیلدار دفتر میں یادداشت پیش کی ۔ اس وفد میں عبدالکریم ‘ محمد مجاہد احمد ‘ عبدالاحد ‘ محمد آصف الدین ‘ محمد سجاد احمد اور عبدالرحمن قریشی ( عامر) کے علاوہ دیگر  موجود تھے ۔   ( سلسلہ صفحہ 8پر )

TOPPOPULARRECENT