Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ میں 12000 جائیدادوں کے ریکارڈس غائب

تلنگانہ میں 12000 جائیدادوں کے ریکارڈس غائب

ضلع رنگاریڈی کی 3995  اور حیدرآباد کی 110اہم جائیدادیں بھی شامل

حیدرآباد۔26اکٹوبر ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ مال سے زائد از 11ہزار جائیدادوں کے دستاویزات غائب ہیں ۔ محکمہ مال میں موجود ریکارڈس کو ڈیجٹلائیز کرنے کے عمل کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست تلنگانہ کے 10 اضلاع میںجملہ 11ہزار 990 جائیدادوں کے دستاویزات موجود نہیں ہیں اور حیدرآباد سے متصل ضلع رنگاریڈی کی تقریباً 4ہزار ایسی جائیدادیں ہیں جن کا ریکارڈ محکمہ مال کے پاس دستیاب نہیں ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ضلع کلکٹرس کو اس بات کی ہدایت دی جاچکی ہے کہ وہ گمشدہ دستاویزات کو اکٹھا کرنے میں عجلت کریں اور اس بات کی تحقیق کریں کہ آیا یہ دستاویزات غائب کیسے ہوئے ؟ انتہائی قیمتی جائیدادوں کے دستاویزات کی عدم موجودگی محکمہ مال کی کارکردگی کے علاوہ حفاظتی اُمور پر سوالیہ نشان ہے ۔ اگر یہ دستاویزات نہیں ملتے ہیں تو ایسی صورت میں ان جائیداوں کے مالکانہ حقوق کے متعلق جاری کیا جانے والا ای سی سرٹیفیکٹ کی اجرائی ہی ناممکن ہوجائے گی اور یہ بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہے ۔ گمشدہ جائیدادوں کے دستاویزات میں حیدرآباد کی 110 جائیدادوں کے دستاویزات بھی شامل ہیں اور ان جائیدادوں کیلئے بھی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں ۔ ضلع رنگاریڈی کی 3995 ایسی جائیدادیں ہیں جن کے دستاویزات محکمہ مال کو دستیاب نہیں ہوپارہے ہیں ‘ اسی طرح ضلع کریم نگر کی 2450 جائیدادوں کے دستاویزات بھی غائب ہیں جن کا کوئی پتہ نہیں چل پارہا ہے ۔ ضلع نظام آباد میں 2360 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہیں جن کے دستاویزات محکمہ مال کے پاس موجود نہیں ہیں ۔ نلگنڈہ میں 990 دستاویزات غائب ہیں جبکہ ضلع ورنگل میں 650 جائیدادوں کے دستاویزات نہیں مل پارہے ہیں ۔ ضلع کھمم میں 6400 جائیدادوں کے دستاویزات گمشدہ بتائے جارہے ہیں ‘ اسی طرح ضلع میدک میں 300 جائیدادوں کے دستاویزات نہیں مل پارہے ہیں ۔ ضلع محبوب نگر میں 250 ایسی جائیدادیں ہیں جن کا ریکارڈ محکمہ مال کے پاس موجود نہیں ہیں ‘ ضلع عادل آباد میں سب سے کم جائیدادوں کے دستاویزات لاپتہ بتائے جارہے ہیں اور ریکارڈ کے مطابق عادل آباد میں صرف 15دستاویزات غائب دکھائے جارہے ہیں ۔ حیدرآباد سے 110اور رنگاریڈی سے زائد از 3ہزار900 جائیدادوں کا غائب ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جن جائیدادوں کے ریکارڈس دستیاب نہیں ہورہے ہیں ان جائیدادوں کے مالکین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے ریکارڈس طلب کئے جارہے ہیں تاکہ محکمہ مال میں ریکارڈس کو یکجا کرنے کا عمل مکمل کیا جاسکے ۔ محکمہ مال کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ان ریکارڈس کا حصول دشوار نہیں چونکہ بوقت رجسٹری مالکین کو دستاویزات کی نقل فراہم کی جاتی ہے اور اسے منگواتے ہوئے ریکارڈ تیار کیا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT