Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / !تلنگانہ میں 450 کروڑ روپئے کی کالا بازاری

!تلنگانہ میں 450 کروڑ روپئے کی کالا بازاری

سی بی آئی اور آر بی آئی کی ٹیمیں متحرک ، بینکوں اور پوسٹ آفس پر چھاپے
حیدرآباد ۔ 26 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ میں 450 کروڑ روپئے کی کالا بازاری ہوئی ہے ۔ بینک کے منیجرس اور دوسرے عہدیداروں کی ٹیلی فون بات چیت خصوصی سافٹ ویر کے ذریعہ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ ایک ہی شخص کی جانب سے مختلف شناختی کارڈس پر منسوخ شدہ کرنسی تبدیل کرنے والوں کی تفصیلات اکٹھا کی جارہی ہے ۔ سی بی آئی اور آر بی آئی کی ٹیمس متحرک ہوگئی ہیں کئی بینکوں اور پوسٹ آفسوں سے چھاپے مارتے ہوئے ڈاکومنٹس کو تحویل میں لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے بعد ریاست میں کمیشن کا کاروبار عروج پر پہونچ چکا ہے ۔ کالا دھن پر قابو پانے کے لیے بڑی نوٹوں کو منسوخ کیا گیا ہے ۔ مگر ریاست میں کالا بازار کا کاروبار دن کے اجالے میں سفید ہوا ہے ۔ صرف 4 دن میں پوسٹ آفسوں اور امدادی باہمی بنکوں میں 250 کروڑ قومیائے ہوئے و خانگی بینکوں سے 200 کروڑ جملہ 450 کروڑ کالا دھن سفید ہوجانے کے اطلاعات پر سرکاری مشنری چوکس ہوگئی ہے ۔ امدادی بینکوں میں منسوخ شدہ کرنسی کی لین دین پر فوری روک لگادی گئی اور منتخب پوسٹ آفسوں کو اس کا اختیار دیا گیا ۔ ابتداء میں منسوخ شدہ نوٹوں کی تبدیلی کے لیے 40 فیصد تک کمیشن وصول کیا گیا جو اب گھٹ کر 20 تا 25 فیصد تک پہونچ گیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ نوٹوں کے تبدیلی کی سہولت فراہم کرنے کے اندرون 48 گھنٹوں کے دوران امدادی باہمی بینکوں میں بڑے پیمانے پر نوٹ جمع کیے گئے جس پر آر بی آئی سکتے میں آگئی ۔ آر بی آئی نے اس کی فوری اطلاع نبارڈ اور سی بی آئی کو دیتے ہوئے اس کی تحقیقات کرانے کی ہدایت کتنی رقم کس سے وصول ، اس کے عوض میں نئی کرنسی کس کو دی گئی ۔ گہرائی تک پہونچکر حقائق کا پتہ لگانے کا مشورہ دیا ہے ۔ آر بی آئی نے پوسٹ آفسوں سے انصاف ہونے کی توقع کی تھی ۔ تاہم ایک ہفتہ میں بڑے پیمانے کی بے قاعدگیوں کو محسوس کرتے ہوئے صرف چند مخصوص پوسٹ آفسوں تک نوٹوں کی لین دین محدود کردی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد بے قاعدگیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آر بی آئی نے خصوصی سافٹ ویر کے ذریعہ بنکوں کے منیجرس اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ نوٹوں کی تبدیلی کے لیے ہونے والی بات چیت کو ریکارڈ کیا ہے ۔ اس کو بنیاد بناکر تحقیقات کی جارہی ہے ۔        ( باقی سلسلہ صفحہ 5 پر )

TOPPOPULARRECENT