Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ بے یارومددگار، وقف مافیا فائدہ حاصل کرنے کوشاں

تلنگانہ وقف بورڈ بے یارومددگار، وقف مافیا فائدہ حاصل کرنے کوشاں

سی ای او کا عدم تقرر، مسلم عہدیدار دستیاب نہ ہوسکا، اوقافی جائیدادوں کو خطرہ
حیدرآباد۔/23جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں جس کا ثبوت گذشتہ ایک ہفتہ سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر عدم تقرر ہے۔ حکومت کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے عہدہ پر تقرر کیلئے گذشتہ ایک ہفتہ سے ایک بھی مسلم عہدیدار دستیاب نہیں جو انتہائی افسوسناک ہے۔ دوسری طرف سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اس عہدہ کی عارضی ذمہ داری کے طور پر پروفیسر ایس اے شکور کو مقرر کیا تھا لیکن انہوں نے ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی ہدایت پر ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح یہ معاملہ بحران کی صورت اختیار کرچکا ہے اور گذشتہ ایک ہفتہ سے وقف بورڈ میں کام کاج ٹھپ ہے اور وقف مافیا اپنے مفادات کی درپردہ تکمیل میں متحرک ہوچکا ہے۔ وقف بورڈ کے معمول کی سرگرمیوں کے علاوہ کئی اہم اوقافی جائیدادوں سے متعلق مقدمات میں وقف بورڈ کو جواب داخل کرنا ہے ایسے موقع پر ایک ہفتہ سے چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی کرسی خالی ہے اور کوئی بھی اہم فیصلے کرنے کیلئے دستیاب نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی اہم مقدمات میں وقف بورڈ کو پیروی کرنی ہے اور عدم پیروی کی صورت میں اہم جائیدادیں قابضین کے حق میں ہوجائیں گی۔ حالیہ عرصہ میں گٹلہ بیگم پیٹ کی قیمتی اوقافی اراضی وقف بورڈ کے ہاتھ سے نکل گئی اور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی عدم موجودگی سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا حالانکہ اس سلسلہ میں جنگی خطوط پر اقدامات کی ضرورت تھی۔ اسی طرح کے کئی اہم معاملات وقف بورڈ میں ٹھپ ہوچکے ہیں جس سے اوقافی جائیدادوں کو مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔ ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف ڈپٹی چیف منسٹر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کے درمیان ٹکراؤ کے ماحول نے حالات کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ اگرچہ زائد ذمہ داری صرف 15دنوں کی ہے لیکن ڈپٹی چیف منسٹر ہرگز نہیں چاہتے کہ پروفیسر ایس اے شکور کو یہ ذمہ داری دی جائے لہذا انہوں نے ایس اے شکور کو ذمہ داری قبول کرنے سے روک دیا جبکہ سکریٹری نے 18 جولائی کو احکامات جاری کردیئے تھے۔ 20جولائی کو یہ احکامات ایس اے شکور کو حاصل ہوئے اور انہوں نے 21 جولائی کو سکریٹری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس طرح اوقافی جائیدادوں کے تحفظ سے متعلق ایک اہم ادارہ بے یارومددگار ہوچکا ہے اور اس صورتحال میں فائدہ وقف مافیا کا ہی ہوگا جو وقف بورڈ میں ملازمین اور عہدیداروں سے ملی بھگت رکھتے ہیں۔ عارضی انتظامات کے سلسلہ میں بعض عہدیداروں سے ربط قائم کیا گیا لیکن کوئی بھی ذمہ داری قبول کرنے تیار نہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق سی ای او عبدالحمید اور وقف سروے کمشنر معصومہ بیگم نے اس عہدہ کو قبول کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ اس طرح نظم و نسق میں ایک بھی مسلم عہدیدار ایسا نہیں جو اس عہدہ کی ذمہ داری کا اہل ہو۔ ان حالات میں ایس اے شکور کے جائزہ لینے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں رہے گا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے آج ڈپٹی چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے صورتحال کی وضاحت کردی اور اس کے ساتھ ساتھ چیف منسٹر کے دفتر کو بھی اس تعطل سے آگاہ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے روزانہ کے دباؤ اور بیجا مداخلتوں سے عاجز آکر 15 دن کی رخصت حاصل کرلی ہے جس کے نتیجہ میں وقف بورڈ بحران سے دوچار ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT