Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ مالیاتی بحران سے دوچار ، آمدنی کم خرچ زیادہ

تلنگانہ وقف بورڈ مالیاتی بحران سے دوچار ، آمدنی کم خرچ زیادہ

ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں بھی نہیں ، کرایہ کی وصولی کے لیے پولیس کی مدد لی جائے گی
حیدرآباد۔13 جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ ان دنوں مالیاتی بحران سے دوچار ہے اور آمدنی کم اور خرچ زیادہ کی صورتحال نے اس ادارے کو ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں تنگ دامنی سے دوچار کردیا ہے۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے آج اعلی عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے بورڈ کے معاشی موقف کا جائزہ لیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے آمدنی میں گراوٹ کے سبب ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں دشواری ہورہی ہے۔ اگر اس صورتحال پر فوری قابو نہیں پایا گیا تو بورڈ ملازمین کو جولائی کی تنخواہ ادا کرنے کے موقف میں نہیں رہے گا۔ صدرنشین نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ان تمام شعبہ جات کی نشاندہی کریں جہاں سے بورڈ کی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ بورڈ کی عدم موجودگی کے باعث عہدیداروں نے اس سلسلہ میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جس کے باعث ذرائع آمدنی بتدریج گھٹ رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اوقافی جائیدادوں کی کمی نہیں لیکن ان سے ہونے والی آمدنی ان کی مالیت کے مطابق نہیں ہے۔ حیدرآباد میں کئی اہم اوقافی اداروں کے تحت موجود سینکڑوں ملگیات کا کرایہ بھی وصول نہیں ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اہم اوقافی ادارے پابندی سے وقف فنڈ جمع نہیں کررہے ہیں۔ ان حالات میں صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کرایہ کی وصولی اور وقف فنڈ حاصل کرنے خصوصی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مہم کے سلسلہ میں پولیس کی مدد لی جائے گی تاکہ ایسے کرایہ دار جو عملاً ملگیات پر قابض ہیں انہیں مارکٹ ریٹ کے مطابق وقف بورڈ کو کرایہ ادا کرنے اور کرایہ دار بننے کے لیے راضی کیا جاسکے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے تجویز پیش کی ہے کہ وقف بورڈ کے تمام شعبہ جات کو آمدنی میں اضافہ کی مہم میں شامل کیا جائے۔ بورڈ کا کوئی شعبہ کیوں نہ ہو اس کے عہدیداروں اور ملازمین کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اوقافی جائیدادوں کے کرایہ حاصل کرنے کے سلسلہ میں رینٹ سیکشن کے عہدیداروں سے تعاون کریں۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے اس سلسلہ میں ایکشن پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ روزانہ چند شعبہ جات کے عہدیداروں اور ملازمین کو مختلف اہم اوقافی جائیدادوں کو روانہ کیا جاسکے۔ یہ ٹیمیں کرایہ داروں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بقایا جات موجودہ کرایہ ادا کرنے کے لیے راضی کریں گے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر نے یہاں تک تجویز پیش کی ہے کہ اگر وقف بورڈ کے ملازمین اور عہدیدار اس فریضے کی ادائیگی کے سلسلہ میں غفلت سے کام لیں تو انہیں جولائی کی تنخواہ ادا نہیں کی جائے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ نے آمدنی میں اضافہ کے سلسلہ میں ہفتے کے دن اعلی سطحی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں حکمت عملی طے کی جائے گی۔ شہر میں کئی اہم اوقافی اداروں کے کرائے گزشتہ دو برسوں سے ادا نہیں کیئے گئے۔ اس کے علاوہ شہر میں وقف بورڈ کی اراضی پر موجود 80 سے زائد ہورڈنگس کے کرایوں میں اضافے کی تجویز ہے۔ صدرنشین محمد سلیم نے کہا کہ مکہ مدینہ علا الدین ٹرسٹ اور نبی خانہ مولوی اکبر پتھر گٹی کے تحت ایک ہزار سے زائد ملگیات ہیں لیکن تمام کے کرائے وقف بورڈ میں جمع نہیں ہورہے ہیں۔ وقف بورڈ نے ملگیات کے کرایہ میں اضافہ کیا لیکن کرایہ دار اضافی کرایہ ادا کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بونال فیسٹول کے بعد چیف ایگزیکٹیو آفیسر سمیت اعلی عہدیداروں کی ٹیم ان جائیدادوں کے کرایہ جات وصول کرنے کے لیے دو دن مسلسل کیمپ کریں گے۔ اس سلسلہ میں پولیس سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT