Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں اصلاحات پر عمل کے مثبت نتائج

تلنگانہ وقف بورڈ میں اصلاحات پر عمل کے مثبت نتائج

بیشتر شعبوں میں فائیلوں کی یکسوئی کا عمل تیز ۔ یومیہ اساس پر ورک چارٹ کی تیاری کی ہدایت
حیدرآباد۔/25اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں اصلاحات پر عمل آوری کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ نے تمام شعبہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے نہ صرف ملازمین کی تبدیلی عمل میں لائی بلکہ انہیں جوابدہ بنانے روزانہ کی بنیاد پر ورک چارٹ تیار کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے اعلیٰ حکام کے ذریعہ تمام شعبہ جات کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی جس کے تحت غیر کارکرد افراد کو ان کے مقررہ عہدوں سے دوسرے مقام پر تبدیل کردیا گیا۔ اصلاحات پر عمل آوری کے بعد سے بیشتر شعبہ جات میں فائیلوں کی یکسوئی کا عمل تیز ہوچکا ہے اور عوامی مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں درمیانی افراد کا رول کم ہوچکا ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے شعبہ قضأت میں بے قاعدگیوں کے خاتمہ کیلئے جو اقدامات کئے اس کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں اور عوام بھی اس سے کافی خوش ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے قدم کے طور پر شعبہ قضأت میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے تاکہ ملازمین کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ عام طور پر یہ شکایت تھی کہ قضأت کے ملازمین کی بعض نائب قاضیوں اور بروکرس سے ملی بھگت ہے جس کے سبب وہ عام افراد پر ان کی درخواستوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ مقررہ وقت کے باوجود بھی درخواستیں حاصل کی جارہی ہیں جس سے روزانہ ہزاروں روپئے کی آمدنی ہورہی تھی۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے اس شعبہ کے بعض ملازمین کا تبادلہ کردیا جس کے بعد سے کافی تبدیلیاں دیکھی جارہی ہیں۔ درمیانی افراد کا رول عملاً ختم ہوچکا ہے اور کسی بھی شخص کی جانب سے زائد درخواستوں کو پیش کرنے کا رواج باقی نہیں رہا۔ سیکشن کے نئے سپرنٹنڈنٹ نے ہر درخواست کو یکسوئی سے قبل ان کی منظوری کو لازمی قرار دیا ہے جس کے باعث صرف راست طور پر درخواست داخل کرنے کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ ہر درخواست کو سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے منظوری دیئے جانے کے سبب بیک وقت کئی درخواستوں کی پیشکشی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ عوام کو ان اصلاحات سے کافی فائدہ ہوا ہے اور مقررہ وقت میں انہیں سرٹیفکیٹس حاصل ہورہے ہیں۔ شعبہ قضأت کے اندرونی اور بیرونی حصہ میں سی سی ٹی وی کیمروں کو نصب کرنے سے درمیانی افراد کا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے۔ اکثر یہ دیکھا جارہا تھا کہ شہر اور اضلاع کے نائب قاضی بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرکے اندرونی افراد کی ملی بھگت سے پیش کررہے تھے اور ہر درخواست پر ملازمین کو کمیشن مقرر تھا۔ اسی دوران وقف بورڈ نے شعبہ قضأت سے متعلق تمام سرٹفکیٹس کی آن لائن اجرائی کیلئے عصری سسٹم متعارف کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص گھر بیٹھے رقم ادا کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ کی کاپی حاصل کرسکتا ہے۔ می سیوا مراکز سے بھی یہ سہولت حاصل رہے گی۔

TOPPOPULARRECENT