Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں اصول پسند اور دیانتدار افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں

تلنگانہ وقف بورڈ میں اصول پسند اور دیانتدار افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں

مقامی سیاسی جماعت کا شکار ، سی ای او کے خلاف بھی مہم کا آغاز
حیدرآباد ۔ 19۔اکتوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں اصول پسند اور دیانتدار افراد کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ وقف مافیا اور ان کی سرپرستی کرنے والی مقامی سیاسی جماعت نے ہمیشہ ہی ایماندار عہدیداروں کے خلاف مہم چلاتے ہوئے حکومتوں کو ان کے تبادلہ پر مجبور کیا۔ ٹھیک اسی طرح موجودہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کے خلاف بے بنیاد الزامات پر مبنی مہم کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ حکومت ان کی میعاد میں توسیع سے گریز کرے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی حیثیت سے محمد اسداللہ کی میعاد 24 اکتوبر کو ختم ہورہی ہے اور حکومت نے ان کی بہتر کارکردگی اور اصول پسندی کو دیکھتے ہوئے میعاد میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ جیسے ہی چیف منسٹر کی جانب سے اسداللہ کی توسیع سے متعلق اشارہ ملا مقامی سیاسی جماعت نے وقف بورڈ پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے کیلئے اسد اللہ کے تبادلہ کی مہم شروع کردی ہے۔ مقامی سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے سید عمر جلیل کو برقرار رکھا جائے جو انکے مفادات کی تکمیل میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔

مقامی سیاسی جماعت کا ماننا ہے کہ سید عمر جلیل کے تقرر میں ان کا اہم رول ہے، لہذا وہ اپنی پسند کے عہدیدار کو وقف بورڈ میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں جبکہ محمد اسد اللہ ان کی من مانی سرگرمیوں اور ناجائز قبضوں کی برقراری میں اہم رکاوٹ ہے۔ ایسے وقت جبکہ محمد اسد اللہ کی خدمات کی ستائش ہر سطح پر کی جارہی ہے۔ مقامی سیاسی جماعت نے ان کے تبادلہ کیلئے حکومت پر دباؤ بنانا شروع کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت کی سرپرستی میں چلنے والے چیانل پر چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے خلاف رپورٹ پیش کرتے ہوئے ان پر کئی الزامات عائد کئے گئے ۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ایم ایل سی نے وقف بورڈ کے دفتر پہنچ کر کئی اہم فائلوں کو طلب کرتے ہوئے ان کا مشاہدہ کیا ، حالانکہ یہ قواعد کے برخلاف ہے۔ کسی بھی عوامی نمائندہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ متعلقہ عہدیدار کی غیر موجودگی میں اپنی پسند کی فائلوں کو طلب کرے۔ مختلف فائلوں کی جانچ کے بعد چیف اگزیکیٹیو آفیسر پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے عاشور خانہ نعل صاحب پتھر گٹی میں ایک ملگی کرایہ پر دی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ عاشور خانہ کے تحت موجود اس نقار خانہ کو 2001 ء سے اس وقت کی مینجنگ کمیٹی کرایہ پر دے رہی ہے ۔ مینجنگ کمیٹی نے کرایہ دار سے معاہدہ بھی کیا۔ بعد میں 13 مئی 2002 ء کو بورڈ کے اجلاس میں اس ملگی کو کرایہ پر دینے کے حق میں قرارداد منظور کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 2001 ء سے اس ملگی کو مسلسل کرایہ پر دیا جاتا رہا۔ اسی تسلسل کے تحت وقف بورڈ نے کرایہ پر دینے کیلئے درخواستیں طلب کی تھی لیکن صرف ایک درخواست موصول ہونے پر کارروائی روک دی گئی۔ اس معاملہ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو ذمہ دار قرار دینا مضحکہ خیز ہے کیونکہ یہ کارروائی عہدیدار مجاز سید عمر جلیل کی منظوری سے کی گئی۔ حیرت تو یہ ہے کہ مقامی جماعت نے کرایہ پر دینے کیلئے اجازت دینے والے ذمہ دار عہدیدار کے بجائے ماتحت عہدیدار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2001 ء سے جب یہ ملگی کرایہ پر دی جارہی ہے تو پھر بورڈ میں شامل رہ کر مقامی جماعت کے نمائندوں نے ابھی تک اعتراض کیوں نہیں کیا۔  اچانک اس مسئلہ کو اچھال کر چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی دیانتداری پر سوال کھڑا کرنا افسوسناک ہے۔ اسی طرح بورڈ میں ریٹائرڈ ملازمین کے تقررات اور ملازمین کو ڈی اے کی ادائیگی کیلئے بھی چیف اگزیکیٹیو آفیسر نشانہ بنایا گیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ وقف بورڈ میں جو 28 ریٹائرڈ ملازمین برسر خدمت ہیں، ان کے تقرر کے احکام سابق اسپیشل آفیسر یا پھر موجودہ عہدیدار مجاز سید عمر جلیل نے جاری کی ہیں۔ تقرر کے احکامات تو عمر جلیل نے جاری کئے لیکن نشانہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو بنایا جارہا ہے جبکہ تقررات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اوقافی جائیدادوں کے کرایہ وصول کرنے میں بہتر مظاہرہ کرنے والے ملازمین کو ڈی اے اور نقدی انعام کی ادائیگی کا رواج 2013 ء سے چل رہا ہے اور عہدیدار مجاز کی منظوری سے چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے موجودہ ملازمین کو ڈی اے کی اجرائی کا فیصلہ کیا۔ الغرض وقف مافیا کی عین خواہش ہے کہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ اور بے قاعدگیوں میں ملوث متولیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا کسی طرح تبادلہ کردیا جائے۔ تحفظ اوقاف سے متعلق تنظیموں کا مانناہے کہ اگر حکومت محمد اسد اللہ کا تبادلہ کرتی ہے تو وقف بورڈ میں دوبارہ وقف مافیا کا راج شروع ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT