Friday , March 31 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کے خلاف احتجاج

تلنگانہ وقف بورڈ میں مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کے خلاف احتجاج

اسد اللہ کے خلاف قرار داد کی منظوری کی مخالفت ، حج ہاوز پر سی پی آئی اور دیگر تنظیموں کا مظاہرہ
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ کے تحت چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف قرارداد کی منظوری مسلمانوں میں ناراضگی کا سبب بن چکی ہے۔ شہر اور اضلاع میں مختلف تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے منعقد کئے گئے۔ حج ہاوز نامپلی میں آج سی پی آئی اور دیگر تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر محمد اسد اللہ کے خلاف قرارداد کی منظوری اور ان کی خدمات محکمہ مال کو واپس کرنے کے فیصلہ پر احتجاج کیا گیا۔ سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ کی قیادت میں مختلف تنظیموں نے یہ دھرنا منظم کیا تھا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ فرض شناس عہدیداروں کو برقرار رکھے اور مقامی جماعت کے دباؤ کو ہرگز قبول نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ سی پی آئی اور دیگر تنظیمیں اس مسئلہ پر ریاستی سطح پر احتجاجی پروگرام شروع کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومتوں نے جس طرح اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی ہے ٹی آر ایس حکومت کو اپنے وعدہ پر عمل کرتے ہوئے جائیدادوں کا تحفظ کرنا چاہیئے۔ وقف بورڈ میں فرض شناس اور ایماندار عہدیداروں کو خدمات کا موقع فراہم کیا جانا چاہیئے۔ عثمان بن محمد الہاجری صدر دکن وقف پروٹیکشن سوسائٹی، ثناء اللہ خان کنوینر ایس سی، ایس ٹی، بی سی مسلم فرنٹ، الیاس شمسی کے علاوہ مختلف اضلاع سے مسلم تنظیموں کے نمائندوں نے دھرنے میں حصہ لیا۔ عزیز پاشاہ نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں سابق میں چھایہ رتن ( آئی اے ایس ) نے اہم رول ادا کیا تھا اسی طرح چیف ایکزیکیٹو آفیسر اسد اللہ کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی دوبارہ بازماموری تک جدوجہد جاری رہے گی۔ وقف بورڈ کی جانب سے سی ای او کے خلاف قرارداد کی منظوری غیر جمہوری ہے کیونکہ وقف بورڈ کو چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے خلاف کارروائی کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ ایجنڈہ میں اس مسئلہ کی عدم موجودگی کے باوجود بورڈ نے مقامی جماعت کے دباؤ کے تحت قرارداد منظور کی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT