Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں ملازمین کو پابند ڈسپلن بنانے اقدامات

تلنگانہ وقف بورڈ میں ملازمین کو پابند ڈسپلن بنانے اقدامات

عہدیداروں پر جینس اور ٹی شرٹ کا استعمال ممنوع ، فارمل ڈریس کوڈ کا اطلاق
حیدرآباد ۔ 27۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں ورک کلچر متعارف کرنے اور خانگی دفاتر کی طرح ملازمین کو پابند ڈسپلن بنانے کیلئے بعض اہم فیصلے کئے گئے ہیں ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے بورڈ کے عہدیداروں اور ملازمین کو پابند کیا ہے کہ وہ فارمل ڈریس کوڈ کے ساتھ دفتر حاضر ہوں اور کسی بھی عہدیدار اور ملازم کیلئے جینس اور ٹی شرٹ کا استعمال ممنوع رہے گا۔ عہدیداروں اور ملازمین کیلئے فارمل ڈریس اور شوز کو لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اکثر و بیشتر وقف بورڈ کے عہدیدار و ملازم اپنی من پسند ڈریسنگ میں دفتر حاضر ہورہے ہیں۔ ان میں بعض تو ایسے ہیں جو اہم عہدہ پر ہونے کے باوجود ہوائی چپل پہن کر دفتر آتے ہیں۔ بعض ملازمین کو مذہبی انداز کے لباس میں دیکھا گیا۔ صدرنشین اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے بورڈ کے مختلف سیکشنوں کا اچانک معائنہ کے دوران دیکھا کہ ملازمین مختلف غیر دفتری لباس زیب تن کئے ہوئے ہیں ۔ عام طور پر سرکاری اور خانگی دفاتر میں ملازمین کیلئے ڈریس کوڈ متعین کیا جاتا ہے تاکہ دفتریت کا ماحول دکھائی دے لیکن وقف بورڈ میں کوئی پرسان حال نہیں۔ ملازمین اپنی پسند اور فیشن کے مطابق لباس پہن کر دفتر آرہے ہیں۔ بعض ملازمین کے نزدیک صفائی اور ستھرائی کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان حالات کا مسلسل جائزہ لینے کے بعد صدرنشین وقف بورڈ نے بعض ملازمین اور عہدیداروں کی سرزنش کی اور تمام ملازمین کیلئے فارمل ڈریس کوڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ چونکہ ایک سرکاری ادارہ ہے ، وہاں ملازمین بھی دیگر دفاتر کی طرح اچھے لباس میں رہیں تاکہ دفتر پہنچنے والے عوام پر اچھا اثر پڑے۔ ملازمین کے من مانی لباس کے باعث عہدیداروں ، ملازمین اور درجہ چہارم کے درمیان فرق کرنا دشوار ہوچکا ہے ۔ ملازمین کو ڈریس کوڈ کے سلسلہ میں سابق میں بھی پابند کیا گیا تھا، اس مرتبہ خلاف ورزی کی صورت میں معطلی کی سزا دی جاسکتی ہے۔ کئی ملازمین اپنے گھر کی حالت میں ہی دفتر پہنچ جاتے ہیں اور ان کی نشست کے اطراف صفائی کا انتظام تک نہیں ہوتا۔ بعض ملازمین کے بارے میں شکایات موصول ہوئی ہیں کہ وہ روزانہ رجسٹر میں حاضری درج کرنے کے بعد دفتر سے غائب ہوجاتے ہیں اور پھر شام میں واپسی کے وقت دفتر میں دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ ملازمین بائیو میٹرک اٹینڈنس مشن میں بھی اسی طرح کی حاضری درج کرا رہے ہیں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے ایسے ملازمین کی نشاندہی کرلی ہے اور انہیں معطل کئے جانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ توقع ہے کہ اندرون ایک ہفتہ اس طرح کے ڈسپلن شکن ملازمین کی معطلی عمل میں لائی جائے گی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے بتایا کہ وقف بورڈ میں دیگر دفاتر کی طرح ماحول صاف ستھرا اور ملازمین اچھے لباس میں ہونے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح خانگی دفاتر میں ملازمین پورے ڈسپلن کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہیں ، وقف بورڈ میں بھی اسی طرح کا ورک کلچر قائم کرنا ان کا مقصد ہے۔ منان فاروقی نے کہا کہ بورڈ کے مختلف شعبہ جات میں اہل عہدیداروں کو نامزد کرنے کیلئے تیاریاں جاری ہیں۔ دفتر کے اوقات میں اپنی مقررہ نشستوں سے غیر حاضر رہنے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر حالیہ عرصہ میں کئی مرتبہ اچانک مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرچکے ہیں۔ بورڈ میں اصلاحات کے نفاذ کے سلسلہ میں بعض گوشوں سے مخالفت کی جارہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT