Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ میں وقف مافیا کا راج ، اوقافی ریکارڈ سے چھیڑچھاڑ

تلنگانہ وقف بورڈ میں وقف مافیا کا راج ، اوقافی ریکارڈ سے چھیڑچھاڑ

عہدیدار مجاز اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو امور سے عدم دلچسپی ، مقامی سیاسی جماعت کا سکریٹری پر کنٹرول
حیدرآباد۔/15اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ گزشتہ چند ماہ سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ و ترقی کے اپنے مقصد کی تکمیل میں ناکام ہوچکا ہے کیونکہ بورڈ کے عہدیدار مجاز اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو ان اُمور سے کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ وقف بورڈ دوبارہ اپنی پرانی روش پر واپس لوٹ چکا ہے جہاں وقف مافیا کا راج اور اوقافی ریکارڈ سے مبینہ چھیڑ چھاڑ جیسی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ وقف سے متعلق روز مرہ کی فائیلوں کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ اہم معاملات سے متعلق زیر التواء فائیلوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ وقف بورڈ کی موجودہ ابتر صورتحال کیلئے اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار ہی ذمہ دار قرار پائیں گے کیونکہ وہ وقف بورڈ سے متعلق عہدیدار مجاز کے  عہدہ کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ وقف بورڈ کی کارکردگی میں زوال کا آغاز اسوقت ہوا جب ایک منظم سازش کے تحت جلال الدین اکبر کو عہدیدار مجاز وقف بورڈ کے عہدہ سے سبکدوش کردیا گیا۔ انہوں نے اس عہدہ پر غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کی مساعی کی بلکہ بعض اہم متولیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی جنہوں نے وقف کی قیمتی اراضیات کو فروخت کردیا تھا۔ جلال الدین اکبر کے خلاف وقف مافیا نے اعلیٰ عہدیداروں اور حکومت پر اثر انداز ہوتے ہوئے ان کے تبادلے کو یقینی بنایا ۔ اس عہدہ کی ذمہ داری سکریٹری اقلیتی بہبود کو دی گئی جو ان کیلئے پسندیدہ شخصیت ہے۔ ایم جے اکبر نے اپنے دور میں جن اہم کارروائیوں کا آغاز کیا تھا انہیں نہ صرف روک دیا گیا بلکہ جن افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی تھی انہیں عدالتوں سے رجوع ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔ وقف بورڈ کی کارکردگی میں سدھار کیلئے متحدہ آندھرا پردیش میں شیخ محمد اقبال نے کئی تاریخی فیصلے کئے تھے اور انہوں نے کئی اہم افراد کو بے نقاب کیا جو اوقافی جائیدادوں کی فروخت کے ذمہ دار ہیں۔ ایم جے اکبر نے ان کارروائیوں کو نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ مزید ایسے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت کی سرپرستی میں وقف مافیا سکریٹری اقلیتی بہبود پر مکمل کنٹرول حاصل کرچکا ہے اور وہ بعض مخصوص معاملات میں نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے وقف بورڈ میں بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ جلال الدین اکبر کے تبادلہ کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے ٹولی مسجد کے تحت موقوفہ اراضی کو بچانے کی جدوجہد شروع کی۔ انہوں نے سیٹلائیٹ میاپنگ کے ذریعہ اوقافی اراضی کی حد بندی کی اور اراضی حاصل کرنے کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ چونکہ ٹولی مسجد کی اراضی پر مقامی جماعت کی سرپرستی میں بعض فنکشن ہال تعمیر کئے جاچکے ہیں لہذا کسی عہدیدار کی ہمت نہیں کہ اس اراضی کے حصول کی مساعی کرے۔ مقامی جماعت اسمبلی اور اس کے باہر جب کبھی اوقافی اراضیات کے تحفظ کا حوالہ دیتی ہے تو ٹولی مسجد کا کبھی تذکرہ نہیں کیا جبکہ یہ صد فیصد موقوفہ اراضی ہے۔ ٹولی مسجد کے علاوہ شہر کے بعض نامور افراد کی بے قاعدگیوں کو منظر عام پر لانے کیلئے ایم جے اکبر کی جانب سے شروع کی گئی کوششوں کو انہیں محکمہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی سرپرستی حاصل نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں وہ خود کو بے بس تصور کررہے تھے۔ حکومت پر مسلسل دباؤ بناتے ہوئے عہدیدار مجاز کے عہدہ سے سبکدوش کردیا گیا اور یہ ذمہ داری سکریٹری اقلیتی بہبود کو دی گئی جس پر وہ آج تک برقرار ہیں۔ اتنا ہی نہیں پہلی مرتبہ متعارف کردہ بائیو میٹرک حاضری سسٹم میں اُلٹ پھیر کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ عہدیدار مجاز کی بعض اہم جائیدادوں کے سلسلہ میں عدم توجہی کے باعث موجودہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو ہی کارروائیوں میں دشواری ہورہی ہے کیونکہ کسی بھی کارروائی کیلئے عہدیدار مجاز کی منظوری ضروری ہے۔ حکومت جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے لیکن اس نے متحرک عہدیدار کا تبادلہ کرتے ہوئے مقامی جماعت کے من پسند عہدیدار کو فائز کردیا۔ اس طرح محکمہ کے 3 اہم عہدے ایک عہدیدار کے ہاتھ میں ہیں جس سے محکمہ کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ ایم جے اکبر کے وقف بورڈ سے تبادلہ کے سلسلہ میں بھی سکریٹری سے قربت رکھنے والے شخص نے اہم رول ادا کیا جس نے اپنے رشتہ دار کو شہر کی ایک اہم درگاہ کے متولی کی حیثیت سے مقرر کیا ہے جبکہ سابق میں شیخ محمد اقبال نے ان کی درخواست کو نامنظور کردیا تھا۔ سکریٹری سے قربت کے نتیجہ میں مذکورہ شخص نے اپنے بھائی کے خلاف وقف بورڈ کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس طرح وقف بورڈ کے اُمور میں بھی سکریٹری کے قریبی افراد کی مداخلت میں اضافہ ہوچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT