Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی آزادانہ کارکردگی میں نیا تنازعہ

تلنگانہ وقف بورڈ کی آزادانہ کارکردگی میں نیا تنازعہ

اہم متولی کے خلاف کارروائی کا آغاز ، قانونی کشاکش ممکن ، فائیل کی یکسوئی کے لیے غلط روایت کا سہارا
حیدرآباد۔ 16۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی آزادانہ کارکردگی میں اس وقت نیا تنازعہ پیدا ہوگیا جب سکریٹری اقلیتی بہبود نے وقف بورڈ کو ہدایت دی کہ ایک متولی کے خلاف کارروائی سے متعلق فائل کو ایڈوکیٹ جنرل اور لاء ڈپارٹمنٹ کو روانہ کریں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے اس اہم فائل کو سکریٹری اقلیتی بہبود کے پاس روانہ کیا تھا جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کے عہدہ پر فائز تھے لیکن انہوں نے اس فائل پر کوئی کارروائی نہیں کی اور آخر کار 19 اپریل کو اپنی مدت کے 6 ماہ کی تکمیل کے ساتھ ہی فائلوں کی یکسوئی کا کام روک دیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ سکریٹری کی حیثیت سے  انہوں نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو ہدایت دی کہ مذکورہ فائل ایڈوکیٹ جنرل اور لاء ڈپارٹمنٹ کو روانہ کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کی جا ئے۔ شہر کے ایک اہم متولی کے خلاف وقف بورڈ نے کارروائی کا آغاز کیا۔ شیخ محمد اقبال نے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے کارروائی کا آغاز کیا تھا اور متولی پر اوقافی اراضی فروخت کرنے کا الزام ہے۔ متولی کو معطل کرتے ہوئے نوٹس جاری کی گئی تھی اور انہوں نے جو جواب داخل کیا ، وہ اطمینان بخش نہیں ہے، جس پر وقف بورڈ نے مزید کارروائی کیلئے فائل کو عہدیدار مجاز کی حیثیت سے سکریٹری اقلیتی بہبود کے پاس روانہ کیا ، جسے طویل عرصہ تک زیر التواء رکھنے کے بعد اب اسے لاء ڈپارٹمنٹ اور ایڈوکیٹ جنرل سے رجوع کرنے کی ہدایت دی جارہی ہے ۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر پر مسلسل دباؤ ہے کہ کسی طرح مذکورہ متولی کے خلاف کارروائی سے دستبرداری اختیار کرلی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی سیاسی جماعت نے اس مسئلہ کو چیف منسٹر سے رجوع کیا لیکن چیف منسٹر نے اپنے طور پر کسی کارروائی یا وقف بورڈ کو ہدایت دینے سے گریز کرتے ہوئے قانون کے مطابق کام کرنے کی ہدایت دی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود جو مقامی سیاسی جماعت کے دباؤ میں ہے، وہ بھی نہیں چاہتے کہ وقف بورڈ آزادانہ طور پر کام کرے اور وقف ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کارروائی ہو۔ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے فائل کو زیر التواء رکھنے کے بعد سکریٹری کی حیثیت سے وقف بورڈ کو ہدایت دینا باعث حیرت ہے۔ وقف بورڈ ایک خود مختار ادارہ ہے اور اسے کارروائی کا حق حاصل ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر اپنے عہدہ کے لحاظ سے ایڈوکیٹ جنرل اور لاء ڈپارٹمنٹ کو فائل روانہ نہیں کرسکتے۔ لہذا سکریٹری اقلیتی بہبود کو فائل روانہ کرنی پڑے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایڈوکیٹ  جنرل اور لاء ڈپارٹمنٹ سے متولی کے حق میں رائے حاصل کرتے ہوئے کارروائی کو روکنے اور الزامات ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اگرچہ گزشتہ ماہ سے وقف بورڈ کی فائلوں کی یکسوئی بند کردی ہے ، تاہم بعض مخصوص فائلوں کا جائزہ لینے اور عہدیدار مجاز کی حیثیت سے منظوری دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض فائلوں کی یکسوئی بحیثیت سکریٹری اور بعض کی بحیثیت عہدیدار مجاز کی جارہی ہے۔ اس طرح وقف بورڈ میں سکریٹری کے رویہ پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ جس طرح بعض متولیوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، اس سے وقف بورڈ مزید قانونی کشاکش کا شکار ہوسکتا ہے ۔ سابق میں اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ جن متولیوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، ان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہے اور انہیں بچانے کا کوئی بھی فیصلہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مغائر ہوگا۔ اگر یہ غلط روایت چل پڑی تو پھر کئی قابضین سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے بآسانی بچ سکتے ہیں۔ عہدیداروں کو اس بات پر حیرت ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود اس کارروائی میں مبینہ طور پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں اور پیش پیش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT