Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی آمدنی کم ، خرچ زیادہ ، حکومت کی گرانٹ ان ایڈ پر انحصار

تلنگانہ وقف بورڈ کی آمدنی کم ، خرچ زیادہ ، حکومت کی گرانٹ ان ایڈ پر انحصار

بورڈ کی کارکردگی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ، محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ تلنگانہ وقف بورڈ میں آمدنی کم اور تنخواہوں کا خرچ کافی زیادہ ہے۔ اس طرح بورڈ تنخواہوں کے لیے اپنے طور پر آمدنی میں اضافہ کرنے کے بجائے حکومت کی گرانٹ ان ایڈ پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آج وقف بورڈ کی کارکردگی پر اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ درگاہوں اور دیگر اوقافی اداروں سے وقف بورڈ کو ماہانہ 30 لاکھ روپئے کی آمدنی ہورہی ہے جبکہ تنخواہوں پر خرچ 80 لاکھ روپئے کا ہے۔ اس طرح آمدنی اور خرچ میں 50 لاکھ روپئے کا فرق واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیداروں نے ڈپٹی چیف منسٹر سے خواہش کی کہ تنخواہوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے گرانٹ ان ایڈ میں اضافہ کیا جائے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی گرانٹ ان ایڈ تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے نہیں ہے بلکہ اوقافی اداروں کی امداد و تعمیر و مرمت کے لیے جاری کی جاتی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حکومت پر انحصار کیے بغیر اپنے طور پر آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کریں اور آمدنی اور خرچ کے اس تفاوت کو ختم کریں۔ اگر اندرون تین ماہ آمدنی میں اضافہ کے اقدامات کیے گئے تب حکومت ملازمین کی تعداد میں اضافہ پر غور کرسکتی ہے۔ جائزہ اجلاس میں حکومت کے مشیر اے کے خان، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر منان فاروقی کے علاوہ بورڈ کے اعلی عہدیدار اور انسپکٹر آڈیٹرس شریک تھے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اسٹاف کی تعداد میں اضافہ اور غیر قانونی تقررات کے سلسلہ میں رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو تقررات غیر قانونی طور پر کیے گئے انہیں کالعدم قرار دیا جائے گا۔ اگر کوئی قابل افراد ان میں موجود ہوں تو ان کی خدمات دوبارہ حاصل کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے وقف بورڈ کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ بورڈ سے ناکارہ اور ایسے ملازمین کو فوری علیحدہ کیا جائے جو ادارے پر بوجھ اور اس کے لیے نقصاندہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے جاریہ اراضی سروے میں اوقافی اراضیات کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے منڈل کی سطح پر ریکارڈ کی تیاری اور ریونیو عہدیداروں کو حوالہ کرنے کی ہدایت دی۔ ہر ضلع میں انسپکٹر آڈیٹر کے ساتھ چند معاونین کو مقرر کیا جائے۔ سروے کے کام کی نگرانی کے لیے سینئر عہدیداروں پر مشتمل تین فلائنگ اسکواڈس کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا۔ ہر ٹیم کو 10 اضلاع کی ذمہ داری دی جائے گی۔ انسپکٹر آڈیٹرس کی نمائندگی پر ڈپٹی چیف منسٹر نے سروے کی تکمیل تک ضلع واری عہدیداروں کو کار کے استعمال کی اجازت دینے کی ہدایت دی جس کے اخراجات گرانٹ ان ایڈ سے ادا کیے جائیں گے۔ سروے کے سلسلہ میں ریونیو عہدیداروں کے ذریعہ وقف عہدیداروں کی ایک روزہ ٹریننگ کا ڈاکٹر چنا ریڈی انسٹی ٹیوٹ آف ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ میں اہتمام کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے 11 جائیدادوں کو 30 سالہ لیز پر دیے جانے کی اجازت کے باوجود وقف بورڈ نے 2 جائیدادوں کو اپنے طور پر ڈیولپ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں بورڈ میں قرارداد منظور کی گئی۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بورڈ کے اس فیصلے کو حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا۔ حکومت کی سطح پر اس فیصلے کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا کیوں کہ بورڈ کے پاس فنڈس نہیں ہیں۔ اس مسئلہ کو حکومت کی سطح پر جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ وقف بورڈ نے 15 سال کی محنت کے بعد تیار کی گئی دوسری سروے رپورٹ کو وقف بورڈ نے یہ کہتے ہوئے حکومت کو واپس کردیا کہ اس میں کئی خامیاں ہے۔ اجلاس میں وقف بورڈ کو ہدایت دی گئی کہ وہ مکمل رپورٹ کو مسترد کرنے کے بجائے خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کریں۔ تلنگانہ میں 3400 جائیدادیں اور ان کا سروے مکمل طور پر غلط نہیں ہوسکتا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تلنگانہ میں وقف بورڈ کے تحت 21 کامپلکس ہیں تاہم ڈپٹی چیف منسٹر نے کامپلکسوں کے تحت ملگیات لیز اور سب لیز پر آمدنی کی تفصیلات اندرون 15 یوم داخل کرنے کی ہدایت دی۔ اس بات کی شکایات ملی ہے کہ وقف کامپلکسوں کی ملگیات جن کو الاٹ کی گئیں انہوں نے زائد کرایہ پر سب لیز کردیا ہے جس سے وقف بورڈ کا نقصان ہورہا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گرانٹ ان ایڈ کی اجرائی کا کام وقف بورڈ سے حاصل کرتے ہوئے راست طور پر محکمہ اقلیتی بہبود جاری کرے تاکہ اوقافی اداروں کو بروقت رقم پہنچ جائے۔ حج ہائوز سے متصل زیر تعمیر کامپلکس کے کنٹراکٹر نے 3 کروڑ روپئے کے بقایاجات کا دعوی پیش کیا تاہم وقف بورڈ نے ایک کروڑ 33 لاکھ کی ادائیگی سے اتفاق کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا کہ ہر ماہ وقف بورڈ کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس منعقد ہوگا۔ عدالتوں میں زیر دوران مقدمات اور ان کی نوعیت کا جائزہ لینے کے لیے ہفتہ کو اسٹینڈنگ کونسلس کے ساتھ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT