Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کو چیف منسٹر کی منظوری

تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کو چیف منسٹر کی منظوری

کسی بھی وقت بورڈ کی تشکیل و عہدیداروں کا تقرر ممکن
حیدرآباد۔/17 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے وقف بورڈ کی تقسیم کا فیصلہ کرلیا ہے اور توقع ہے کہ کسی بھی وقت بورڈ کی تقسیم اور نئے عہدیداروں کے تقرر کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت بورڈ کے عہدیدار مجاز کے طور پر سکریٹری اقلیتی بہبود کو مقرر کرنے پر غور کررہی ہے جبکہ چیف ایکزیکیٹو آفیسر کی حیثیت سے محمد اسد اللہ کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں علحدہ بورڈ کی تشکیل ناگزیر ہوچکی ہے۔ مرکز نے 7ستمبر کو بورڈ کو تحلیل کردیا جس کے بعد سے وقف بورڈ صرف چیف ایکزیکیٹو آفیسر کے ذریعہ چلایا جارہا ہے۔ بورڈ کی تقسیم کیلئے دونوں حکومتوں کی جانب سے اپنے اپنے عہدیداروں کا تقرر ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے عہدیداروں کے تقرر میں پیشرفت کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے بورڈ کی تقسیم اور نئے عہدیداروں کے تقرر کو منظوری دے دی تاہم احکامات کی اجرائی باقی ہے۔ بورڈ کی عدم تقسیم کے باعث تعطل کی صورتحال تھی اور عہدیداروں کا کوئی بھی فیصلہ قابل چیلنج تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کی تقسیم کے مرحلہ کی تکمیل کے بعد حکومت صدرنشین اور ارکان کے انتخاب کے عمل کو آگے بڑھائے گی۔ اسپیشل آفیسر کے عہدہ کو ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد حکومت نے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کو عہدیدار مجاز کے طور پر مقرر کیا ہے تاہم یہ معاملہ بھی ہائی کورٹ میں زیر دوران ہے۔ بورڈ کی تقسیم کے فیصلہ کے بعد ملازمین اور عہدیدار بھی متحرک ہوچکے ہیں اور وہ آندھرا سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کو تلنگانہ میں شامل کرنے کی مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے عمل سے نہ صرف تلنگانہ ملازمین سے ناانصافی ہوگی بلکہ ان کی سینیاریٹی متاثر ہوگی۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں عہدیداروں کی کمی کے باعث ایک ایک عہدیدار کو ایک سے زائد ذمہ داری دی گئی ہے۔ وقف بورڈ میں اسپیشل آفیسر کے علاوہ سروے کمشنر وقف کا عہدہ خالی ہے۔ اس کے علاوہ وقف ٹریبونل پر مستقل جج کا طویل عرصہ سے تقرر نہیں کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT