Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے پیشرفت کا اشارہ

تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کیلئے پیشرفت کا اشارہ

حکومت کی محکمہ اقلیتی بہبود اور ماہرین قانون سے رائے طلبی
حیدرآباد۔17 فبروری (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں حکومت نے پیشرفت کا اشارہ دیا ہے۔ بورڈ کی تشکیل کے قطعی مرحلہ کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود اور ماہرین قانون سے رائے طلب کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے وقف بورڈ کی تشکیل کی ذمہ داری اپنے فرزند اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر کے ٹی آر کو دی ہے جنہوں نے نامزد ارکان کے ناموں کے سلسلہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بات چیت کی۔ اطلاعات کے مطابق کے ٹی آر بہت جلد حکومت کی حلیف جماعت سے مشاورت کے بعد نامزد ارکان کے ناموں کو قطعیت دیں گے اور پھر بورڈ کی تشکیل کا اعلامیہ جاری کردیا جائے گا۔ بورڈ کے صدرنشین کے عہدے پر رکن قانون ساز کونسل جناب محمد سلیم کا انتخاب تقریباً یقینی ہے کیوں کہ چیف منسٹر نے ان کے نام کی منظوری دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حلیف جماعت نے بورڈ پر کنٹرول کے سلسلہ میں ایک مرحلہ پر صدارت پر دعویداری پیش کی تھی۔ تاہم بعد میں ارکان کی تعداد اس سلسلہ میں مذاکرات ہوئے اور حلیف جماعت نے بتایا جاتا ہے کہ صدارت پر اپنی دعویداری کو واپس لے لیا ہے۔ بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کے سبب برسر اقتدار پارٹی کارکنوں میں الجھن پائی جاتی ہے۔ وقف بورڈ کے چھ ارکان کا انتخاب پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے اور مزید چار یا پانچ نامزد ارکان کے ساتھ اعلامیہ کی اجرائی باقی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چھ منتخب ارکان میں چار کا تعلق حلیف جماعت سے ہے۔ لہٰذا حکومت نامزد ارکان میں اپنے حامیدوں کا تقرر کرتے ہوئے بورڈ میں توازن برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ حکومت بورڈ کی کارکردگی پر نگرانی رکھنے کے لیے کم سے کم اپنے 5 ارکان کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود سے پوچھا گیا ہے کہ نامزد ارکان کی تعداد کیا ہونی چاہئے۔ ابتداء میں چار ارکان کی نامزدگی کی تیاری کی گئی تھی تاہم بعد میں حکومت نے پانچ ارکان کی نامزدگی کا فیصلہ کیا ہے۔ بورڈ میں پہلی مرتبہ دو خاتون ارکان کو شامل کیا جائے گا۔ وقف ایکٹ کے مطابق دو خاتون ارکان کی شمولیت لازمی ہے۔ حکومت خواتین کے زمرے میں ایک سماجی کارکن اور ایک ایڈوکیٹ کو نامزد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور اس کے لیے ناموں کو قطعیت دے دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر سے تعلق رکنھے والے ایک پولیس عہدیدار کی شریک حیات جو ہائی کورٹ میں وقف بورڈ کی اسٹینڈنگ کونسل ہیں انہیں رکن کی حیثیت سے شامل کیا جائے گا جبکہ دوسری خاتون کے لیے ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والی ایک سماجی کارکن کا نام زیر غور ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT