Saturday , June 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی اور فیصلوں سے حکومت لاعلم

تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی اور فیصلوں سے حکومت لاعلم

حکومت اور بورڈ کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال، قراردادوں سے حکومت خواب غفلت میں
حیدرآباد۔/10 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی کارکردگی اور اہم فیصلوں سے حکومت کو لاعلم رکھنے سے بورڈ اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے بعد سے ابھی تک 4 اجلاس منعقد ہوئے جس میں تقریباً 200 سے زائد قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کئی اہم اور بعض متنازعہ فیصلے بھی شامل ہیں۔ لیکن بورڈ کی جانب سے ابھی تک ایک بھی اجلاس کی قراردادوں اور فیصلوں سے حکومت کو واقف نہیں کرایا گیا۔ 23 فبروری کو تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی تھی اور ابھی تک چار اجلاس ہوچکے ہیں۔ طریقہ اور قواعد کے مطابق بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فیصلوں سے حکومت کو آگاہ کرے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر چونکہ حکومت کا نمائندہ ہوتا ہے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام فیصلوں سے حکومت کو آگاہ کرے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کو آج تک ایک بھی اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات روانہ نہیں کی گئیں جس سے حکومت اور بورڈ کے درمیان تال میل کی کمی صاف طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ بورڈ کی موجودہ صورتحال سے حکومت خوش نہیں ہے اور سکریٹری اقلیتی بہبود چار اجلاسوں کے فیصلوں کی تفصیلات کے سلسلہ میں چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو میمو روانہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر اجلاس کے بعد بورڈ کو چاہیئے کہ وہ تمام فیصلوں کی تفصیلات سے حکومت کو آگاہ کرے کیونکہ وقف ایکٹ کے مطابق حکومت کو بورڈ کے فیصلوں پر نظر ثانی اور انہیں منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ میں بعض ایسے متنازعہ فیصلے کئے گئے جن پر حکومت اعتراض کرسکتی ہے لہذا منصوبہ بند طریقہ سے ان کی تفصیلات حکومت کو روانہ کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض ارکان حکومت کو تفصیلات روانہ کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔ وقف ایکٹ کے مطابق بورڈ کے کسی بھی فیصلہ کو کالعدم کرنے کا پہلا اختیار چیف ایکزیکیٹو آفیسر کو ہے۔ وہ اپنی رائے کے ساتھ کسی بھی متنازعہ مسئلہ کو حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں اور حکومت فیصلہ کو کالعدم کرنے کے احکامات جاری کرسکتی ہے۔ موجودہ بورڈ میں بعض ارکان کے اثر و رسوخ اور دیگر ارکان کی ناتجربہ کاری اور وقف اُمور سے ناواقفیت کے سبب ایک مخصوص گروپ کی مرضی کے مطابق فیصلے لئے جانے کی شکایت ملی ہیں۔ گزشتہ دو اجلاسوں میں بعض ایسے متنازعہ فیصلے کئے گئے جس پر یقینی طور پر حکومت کو اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن ان فیصلوں کے حق میں بورڈ سے احکامات جاری کرائے گئے اور ان پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ بورڈ کی اس صورتحال سے حکومت کو واقف کرانے کیلئے چیف ایکزیکیٹو آفیسر ایم اے منان فاروقی نے گزشتہ چار اجلاسوں کے فیصلوں کی تفصیلات پیش کرنے ماتحت عہدیداروں کو ہدایت دی ہے تاکہ انہیں سکریٹری اقلیتی بہبود کے پاس روانہ کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ماتحت عہدیدار اس کام میں جان بوجھ کر غفلت سے کام لے رہے ہیں کیونکہ وہ بورڈ کے بعض ارکان سے قربت رکھتے ہیں اور ان کے اشاروں پر کام کررہے ہیں۔ جب کبھی بھی 4 اجلاسوں کی روداد حکومت کو روانہ کی جائے گی محکمہ اقلیتی بہبود تمام فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لے گا اور متنازعہ فیصلوں کے سلسلہ میں وہ بورڈ سے وضاحت طلب کرسکتا ہے۔وقف بورڈ کے اجلاسوں میں من مانی فیصلوں کا یہ معاملہ حکومت اور بورڈ کے درمیان تنازعہ کا سبب بن سکتا ہے اور اگر حکومت بعض فیصلوں کو کالعدم قرار دیتی ہے تو اس سے دونوں میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوگی۔ یہ معاملہ اگر طول پکڑے گا تو پھر 2004 کی طرح حکومت کو بورڈ کالعدم کرنے پر مجبور ہونا پڑیگا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے نامزد ارکان نے شکایت کی ہے کہ ان کی ناتجربہ کاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض ارکان اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے من مانی فیصلے کررہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT