Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کے بحران میں شدت ، نئے سی ای او کا حصول جائزہ سے انکار

تلنگانہ وقف بورڈ کے بحران میں شدت ، نئے سی ای او کا حصول جائزہ سے انکار

وقف مافیا مفادات کی تکمیل میں سرگرداں ، اہم فائیلیں دفتر چیف منسٹر سے رجوع
حیدرآباد ۔ 20۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ میں بحران مزید شدت اختیار کرچکا ہے۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کے طویل رخصت حاصل کرنے کے چار دن بعد ہی نئے چیف اگزیکیٹیو آفیسر نے جائزہ حاصل نہیںکیا جس کے سبب وقف بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے اور روز مرہ کی ضروری فائلوں کا انبار لگ چکا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے پروفیسر ایس اے شکور  کو سی ای او کی زائد ذمہ داری دیتے ہوئے احکامات کل جاری کئے ہیں جبکہ زبانی طور پر پیر کے دن ہی انہوں نے نئی ذمہ داری کی اطلاع دی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پروفیسر ایس اے شکور وقف بورڈ کی ذمہ داری سنبھالنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور انہوں نے اس سلسلہ میں سکریٹری کو اپنے موقف سے آگاہ کردیا۔ حج سیزن کے آغازکے باعث وہ وقف بورڈ میں کام کرنے سے قاصر ہیں۔ انہیں اوقافی امور اور ریونیو معاملات کا تجربہ نہیں جس کے باوجود سکریٹری نے عارضی انتظامات کے تحت انہیں ذمہ داری دی ہے۔ آج شام تک بھی انہیں تقرر کے احکامات موصول نہیں ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے عہدیدار اور ملازمین نئے سی ای او کے انتظار میں ہیں۔ گزشتہ چار دن سے کئی اہم فائلیں یکسوئی کے منتظر ہیں اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کو ان کی یکسوئی کیلئے سی ای او کی منظوری ضروری ہے ۔ اگر وقف بورڈ کا یہ بحران مزید چند دن برقرار رہا تو صورتحال مزید ابتر ہوجائے گی اور اندیشہ ہے کہ کسی کی نگرانی نہ ہونے کے سبب وقف مافیا اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے سرگرم ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے سکریٹری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایس اے شکور کے تقرر کی مخالفت کی۔ ان کا استدلال ہے کہ حج سیزن کے دوران زائد ذمہ داری نہیں دی جانی چاہئے ۔ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ وزارت کا قلمدان چیف منسٹر کے پاس ہے، لہذا کسی اور وزیر سے مشاورت یا اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ محکمہ کی اہم فائلوںکو چیف منسٹر کے دفتر سے رجوع کیا جارہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT