Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف بورڈ کے نامزد عہدوں کے لیے زبردست پیروی

تلنگانہ وقف بورڈ کے نامزد عہدوں کے لیے زبردست پیروی

چار ارکان کی نامزدگی کے لیے چیف منسٹر کی اندرون دو یوم مشیروں سے مشاورت
حیدرآباد۔/10جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے سلسلہ میں 4 ارکان کی نامزدگی کا مرحلہ چیف منسٹر سے رجوع کیا جاچکا ہے۔ امکان ہے کہ چیف منسٹر اندرون دو یوم نامزد ارکان کے سلسلہ میں اپنے مشیروں اور اقلیتی بہبود کے سکریٹری سے مشاورت کریں گے۔ اس طرح 4 ارکان کی نامزدگی کے بعد وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ جن ارکان کی نامزدگی باقی ہے ان میں شیعہ اور سنی طبقات سے دو اسکالرس، ایک خاتون اور ایک سرکاری عہدیدار شامل ہیں۔ حکومت مذہبی اسکالرس کے ناموں کے سلسلہ میں اپنی حلیف جماعت سے مشاورت کرے گی جبکہ خاتون اور سرکاری عہدیدار کا فیصلہ چیف منسٹر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ نامزد عہدوں کیلئے مختلف گوشوں سے حکومت کی سطح پر زبردست پیروی کی جارہی ہے۔ مذہبی شخصیتوں کی جانب سے بھی وقف بورڈ کی رکنیت حاصل کرنے میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور مقامی سیاسی جماعت اور برسراقتدار پارٹی کے پاس خواہشمندوں کی طویل فہرست تیار ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے کئی مذہبی قائدین نے خود کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے وقف بورڈ کی رکنیت پر اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی جو متولی اور منیجنگ کمیٹی زمرہ میں حکومت کے تائیدی رکن کو منتخب کرنے میں کامیاب ہوئے۔ وہ نامزد عہدوں کیلئے بھی چیف منسٹر کو بعض ناموں کی سفارش کریں گے۔ متولی اور منیجنگ کمیٹی زمرہ میں حکومت کے تائیدی امیدوار کے انتخاب کے بعد وقف بورڈ میں حکومت اور مقامی جماعت کا توازن یکساں طور پر مساوی ہوسکتا ہے۔ حکومت اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ نامزد ارکان کے زمرہ میں بھی حکومت کے تائیدی ارکان شامل کئے جاسکیں تاکہ بورڈ پر مقامی جماعت کا کنٹرول نہ رہے۔ صدر نشین کے عہدہ کیلئے پہلے ہی رکن قانون ساز کونسل جناب محمد سلیم کے نام کو قطعیت دی جاچکی ہے اور بورڈ کی تشکیل کے بعد پہلے اجلاس میں رسمی طور پر ان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ نامزد عہدوں میں حکومت کو خاتون رکن اور سرکاری عہدیدار کے تقرر کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی خواتین نے وقف بورڈ کی رکنیت کیلئے اپنی دعویداری پیش کی ہے۔ اس عہدہ کیلئے ایک خاتون ایڈوکیٹ اور ایک سماجی کارکن کے نام سرکاری حلقوں میں زیر گشت ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری عمر جلیل خاتون رکن کے زمرہ میں ایک سماجی کارکن کے تقرر کے حق میں ہیں جو سابق میں ایک سیاسی جماعت سے وابستہ رہ چکی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ڈپٹی چیف منسٹر ایک خاتون قانون داں کے نام کی سفارش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی خواتین نے اپنے بائیوڈاٹا حکومت کو پیش کئے ہیں۔ عہدیدار کے تقرر کے سلسلہ میں حکومت کو اس لئے بھی دشواری کا سامنا ہے کیونکہ وقف ایکٹ کے تحت جوائنٹ سکریٹری رینک کے عہدیدار کو بورڈ کا رکن نامزد کیا جاسکتاہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ریاست میں ایڈیشنل سکریٹری، جوائنٹ سکریٹری اور ڈپٹی سکریٹری رینک کا ایک بھی مسلم سرکاری عہدیدار موجود نہیں۔ مطلوبہ رینک کے عہدیدار کی عدم موجودگی کے باعث حکومت کسی اور ادارہ سے مساوی رینک رکھنے والے عہدیدار کی تلاش کررہی ہے تاکہ وقف بورڈ کی تشکیل کا عمل مکمل ہوجائے۔ ریاست میں دو آئی اے ایس عہدیدار ایم اے عظیم اور سرفراز احمد اپنے رینک کے لحاظ سے جوائنٹ سکریٹری رتبہ میں آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ حکومت ان میں سے کسی ایک کا بورڈ میں تقرر کرے۔ ایم اے عظیم محکمہ یوتھ سرویسیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ سرفراز احمد کلکٹر کریم نگر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسسٹنٹ سکریٹری رینک میں ریاست میں صرف 3 مسلم عہدیدار ہیں جن میں سے ایک کو حال ہی میں اس عہدہ پر ترقی دی گئی۔ تلنگانہ میں مسلم عہدیداروں کی کمی نے اقلیتوں کے مسائل کی یکسوئی کی راہ میں بھی رکاوٹ پیدا کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT