Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ وقف ٹریبونل ، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں ناکامی

تلنگانہ وقف ٹریبونل ، اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں ناکامی

جج کی تبدیلی کے سلسلہ میں چیف جسٹس ہائی کورٹ سے نمائندگی کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ وقف ٹریبونل میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں وقف بورڈ کی ناکامی کو دیکھتے ہوئے متعلقہ جج کی تبدیلی کے سلسلہ میں چیف جسٹس ہائیکورٹ سے نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ ابھی نمائندگی باقی تھی کہ مذکورہ جج کی خدمات میں توسیع کردی گئی ہے۔ اس طرح وقف ٹریبونل میں مخالف وقف بورڈ فیصلوں کے امکانات کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے وقف ٹریبونل کے حالات کا عہدیداروں کے ساتھ جائزہ لیا ۔ انہیں بتایا گیا کہ ٹریبونل میں زیادہ تر فیصلے وقف بورڈ کے خلاف آر ہے ہیں اور غیر مجاز قابضین کو رعایت دی جارہی ہے ۔ اس صورتحال کیلئے ایک طرف وقف بورڈ تو دوسری طرف وقف بورڈ کے وکلاء برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اسٹانڈنگ کونسلس کا ماننا ہے کہ بورڈ کی جانب سے درکار دستاویزات اور مواد کی سربراہی میں تاخیر کے سبب زیادہ تر فیصلے قابضین کے حق میں ہورہے ہیں۔ بورڈ کا لیگل سیکشن عدالتوں میں زیر دوران مقدمات کی موثر پیروی میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ اسٹانڈنگ کونسلس کے حالیہ اجلاس میں وکلاء نے جج کی تبدیلی کے سلسلہ میں چیف جسٹس سے نمائندگی کی خواہش کی تھی ۔ صدرنشین وقف بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ چیف جسٹس حیدرآباد ہائیکورٹ سے ملاقات کریں گے لیکن یہ ملاقات آج تک نہیں ہوسکی جبکہ دوسری طرف ٹریبونل کے جج کی میعاد میں توسیع ہوچکی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ کسی بھی سرکاری ادارہ کو جج کی تبدیلی کے سلسلہ میں چیف جسٹس سے نمائندگی کا اختیار حاصل ہے لیکن وقف بورڈ نے اس معاملہ میں تاخیر کردی۔ تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد سے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کے مقدمات ٹریبونل سے رجوع ہوئے اور بتایا جاتا ہے کہ ان کا فیصلہ وقف بورڈ کے خلاف ہوا۔ غیر مجاز قابضین وقف اراضی کو اپنی ذاتی اراضی ثابت کر نے کیلئے رجسٹریشن کے دستاویزات پیش کر رہے ہیں، جیسے عام طور پر ٹریبونل قبول کر رہا ہے۔ حکومت نے وقف ٹریبونل میں مزید دو ارکان کو نامزد کیا تھا لیکن یہ ارکان جج کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے سے قاصر دکھائی دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران وقف ٹریبونل کے فیصلوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں تاکہ اس کی بنیاد پر چیف جسٹس سے نمائندگی کی جاسکے۔ بورڈ نے لیگل ڈپارٹمنٹ کو مستحکم کرنے کیلئے ریٹائرڈ ججس اور سینئر ایڈوکیٹس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اس سلسلہ میں پیشرفت باقی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT