Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرا میڈیکل کالجس کی نشستوں میں اضافہ کی تو قع

تلنگانہ و آندھرا میڈیکل کالجس کی نشستوں میں اضافہ کی تو قع

ایم سی آئی کی 45 دن مہلت ،سیاسی اثر و رسوخ کی بناء کارروائی سے عموماً گریز
حیدرآباد۔/16جون، ( سیاست نیوز) ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ میں میڈیسن کی نشستوں میں ہونے والی تخفیف کی وجوہات کو دور کرنے کیلئے میڈیکل کونسل آف انڈیا نے 45دن کی مہلت انتظامیہ کو فراہم کی ہے۔ خانگی میڈیکل کالجس میں سہولتوں اور آلات کی عدم موجودگی کی بناء پر جن نشستوں کو کم کیا گیا تھا انہیں بحال کرنے کیلئے دی گئی اس مہلت سے دونوں ریاستوں کی نشستوں میں اضافہ کی اُمیدیں جاگ چکی ہیں۔ ریاست تلنگانہ و آندھراپردیش میں بیشتر خانگی میڈیکل کالجس سیاستداں یا ان کے قریبی رشتہ دار چلاتے ہیں جن میں اقلیتی میڈیکل کالجس بھی شامل ہیں۔ تلنگانہ  میں چلائے جانے والے خانگی میڈیکل کالجس میں 4 میڈیکل کالجس سیاستدانوں کے رشتہ داروں کے ہیں جن میں پرتیما انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس، ملا ریڈی میڈیکل کالج، دکن میڈیکل کالج اور شاداں میڈیکل کالج شامل ہیں۔ پرتیما انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس گورنر مہاراشٹرا مسٹر سی ایچ ودیا ساگر راؤ کے رشتہ دار کا ہے جبکہ ملا ریڈی میڈیکل کالج مسٹر سی ایچ ملا ریڈی رکن پارلیمنٹ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا ہے۔ اسی طرح دکن میڈیکل کالج اویسی برادران کا ہے اور شاداں میڈیکل کالج سابق رکن اسمبلی ڈاکٹر وزارت رسول خاں مرحوم نے قائم کیا تھا۔ اسی طرح آندھرا پردیش میں نارائنا میڈیکل کالج ڈاکٹر پی نارائنا تلگودیشم وزیر، ممتا میڈیکل کالج پی اجئے کمار سیاستداں، آشرم میڈیکل کالج مسٹر جی گنگا راجو رکن پارلیمنٹ اور گیتم میڈیکل کالج مسٹر ایم وی وی ایس مورتی سابق وزیر کی جانب سے چلایا جاتا ہے۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کے ذرائع کا ماننا ہے کہ بااثر شخصیات کی جانب سے قائم کردہ ان کالجس میں سہولتوں کی عدم موجودگی اور درکار آلات نہ ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ سیاسی رسوخ کی بناء پر انتظامیہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں روک دی جاتی ہیں جبکہ کالجس میں درکار سہولتوں کے متعلق جائزہ لینے کی ذمہ داری سرکاری ڈاکٹرس کو تفویض کی جاتی ہے اور ان کی جانب سے خدمات کی انجام دہی میں کوتاہی کی صورت میں ان ڈاکٹرس و تحقیق کنندگان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ صدر پرائیویٹ میڈیکل کالجس اسوسی ایشن ڈاکٹر بھاسکر راؤ کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر و سہولتوں پر میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے کیا جانے والا اعتراض بجا نہیں ہے کیونکہ مذکورہ کالجس گذشتہ 10برسوں سے چلائے جارہے ہیں۔ اسوسی ایشن کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے دی گئی 45یوم کی مہلت کے دوران نشاندہی کردہ کوتاہیوں کو دور کیا جاسکتا ہے۔ آندھرا پردیش میں ایم سی آئی کی جانب سے 450نشستوں کی تخفیف کی گئی تھی جس میں 204 نشستیں عام زمرہ کی تھیں۔ اسی طرح 200نشستیں ریاست تلنگانہ میں کم کی گئی ہیں جن میں 100 نشستیں عام زمرہ کی نشستوں میں شامل ہیں۔ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے دی گئی مہلت کے دوران اگر کالج انتظامیہ کوتاہیوں کو دور کرتے ہیں تو دونوں ریاستوں میں650 نشستوں کا اضافہ ممکن ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم سی آئی نے جن نشستوں کی تخفیف کا فیصلہ کیا تھا وہ اضافی 50نشستوں کے متعلق تھا۔

TOPPOPULARRECENT