Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرا پردیش میں وقف بورڈ کی تقسیم آخری مرحلہ میں داخل

تلنگانہ و آندھرا پردیش میں وقف بورڈ کی تقسیم آخری مرحلہ میں داخل

دونوں حکومتیں قانونی امور کی تکمیل میں مصروف ، دوسرے سروے سے اوقافی جائیدادوں کے اضافہ کی کوشش
حیدرآباد۔12 اکٹوبر (سیاست نیوز) ریاستی وقف بورڈ جو تلنگانہ اور آندھراپردیش ریاستوں میں تقسیم کے آخری مرحلہ میں ہے، دوسرے سروے کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں اور اراضی میں اضافے کے اقدامات کررہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اگرچہ وقف بورڈ کی تقسیم کا اعلامیہ گزشتہ ماہ جاری کردیا، لیکن تلنگانہ اور آندھراپردیش کی حکومتیں ضروری قانونی امور کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ وقف بورڈ فی الوقت اصولی طور پر معلق ہوچکا ہے اور کسی ایک حکومت کی جانب سے تقسیم کے احکامات کی اجرائی تک وقف بورڈ کا وجود ثابت نہیں ہوگا۔ چوں کہ مرکزی حکومت نے بورڈ کو تحلیل کردیا ہے لہٰذا دونوں ریاستوں کو اپنے طور پر علیحدہ اسپیشل آفیسر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر کا تقرر کرنا ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر بورڈ کے امور کی نگرانی کررہے ہیں اور صرف روز مرہ کے کاموں کی تکمیل کی جارہی ہے۔ تقسیم تک کوئی بھی عہدیدار اہم فیصلہ کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ بورڈ کی تقسیم کا عمل مکمل ہونے تک دوسرے وقف سروے کا کام مکمل ہوجائے جس کا آغاز 2001ء میں متحدہ آندھراپردیش ریاست میں ہوا تھا۔ دوسرے سروے میں ابھی تک دونوں ریاستوں میں مزید 25762 نئی اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی۔ توقع کی جارہی ہے کہ سروے کی تکمیل تک دونوں ریاستوں میں نئی اوقافی جائیدادوں کی تعداد بڑھ کر 30 ہزار تک پہنچ جائے گی۔ 1955ء میں پہلے وقف سروے کا آغاز ہوا تھا جس کی تکمیل کے لئے 10 برس لگ گئے جس میں 38529 اوقافی جائیدادوں اور ان کے تحت ایک لاکھ 33 ہزار 209 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی جس میں 81000 ایکڑ اراضی دونوں ریاستوں میں غیر مجاز قبضہ کے تحت ہے۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش کی حکومتیں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق بنانے کے اقدامات کررہی ہیں تاکہ ریونیو ریکارڈ میں اوقافی جائیدادیں بطور اوقاف درج کی جاسکیں۔ اس طرح کوئی بھی ان جائیدادوں اور اراضیات کا فروغ اور رجسٹری نہیں کر پائے گا۔ حکام اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ دوسرے سروے میں جن جائیدادوں کا اضافہ ہوا ہے، انہیں بھی ریونیو ریکارڈ میں بحیثیت وقف درج کیا جائے۔ وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ پہلے سروے کی تکمیل کے 44 سال بعد 2001 ء میں حکومت نے دوسرے وقف سروے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے وقف سروے کی تکمیل میں اہم رکاوٹ اسٹاف کی کمی ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ طویل عرصہ سے وقف سروے کمشنر کا عہدہ مخلوعہ ہے۔ دیگر عہدیداروں کو اس کی زائد ذمہ داری دی جاتی رہی ہے۔ اگر حکومت دوسرے سروے کی جلد تکمیل کی خواہاں ہو تو اسے چاہئے کہ وقف اور ریونیو امور سے واقف کسی ماہر عہدیدار کو بحیثیت وقف سروے کمشنر مقرر کیا جائے اور اسٹاف کی تعداد میں اضافہ ہو۔ ضلع واری سطح پر وقف بورڈ کے اسٹاف کی کمی اور ریونیو عہدیداروں کا عدم تعاون بھی دوسرے سروے کی راہ میں اہم روکاٹ ثابت ہورہا ہے۔ اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے تحفظ کے لئے حکومت سے علیحدہ پروٹیکشن سیل کی تشکیل کی خواہش کی گئی ہے جس میں پولیس عہدیداروں کو تعینات کرنے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ پولیس عہدیدار وقف بورڈ سے اشتراک کرتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرسکیں۔ تلنگانہ اور آندھراپردیش میں کئی قیمتی اراضیات ایسی ہیں جنہیں ڈیولپمنٹ پر لیز کی شکل میں دیتے ہوئے کروڑہا روپئے کی آمدنی حاصل کی جاسکتی ہے۔ تاہم دونوں حکومتیں اس سلسلہ میں اجازت دینے سے گریز کررہی ہیں۔ وقف بورڈ نے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں اس طرح کی کئی جائیدادوں کی نشاندہی کی لیکن انہیں حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔ وقف بورڈ عہدیداروں کو امید ہے کہ بورڈ کی تقسیم کے بعد دونوں ریاستیں اس جانب توجہ دیں گی۔ بورڈ کی تقسیم کے سلسلہ میں آندھراپردیش کی جانب سے حیدرآباد میں موجود بعض اوقافی اداروں میں استعمال کی گئی بھاری رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں بھی بعض تنازعات ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا سے تعلق رکھنے والے بعض ملازمین تلنگانہ میں برقرار رہنا چاہتے ہیں جس کی تلنگانہ ملازمین کی جانب سے شدت سے مخالفت کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT