Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرا پردیش کیلئے وقف بورڈ اثاثہ جات کی تقسیم کا عمل جاری

تلنگانہ و آندھرا پردیش کیلئے وقف بورڈ اثاثہ جات کی تقسیم کا عمل جاری

دونوں ریاستوں میں عہدیداروں کی تلاش ، حج ہاوز میں اے پی بورڈ کا عارضی دفتر ہوگا
حیدرآباد ۔ 21۔ اکتوبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش وقف بورڈ کی تحلیل اور تلنگانہ وقف بورڈ کی تشکیل کے بعد دونوں ریاستوں میں ملازمین اور اثاثہ جات کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار اس کام میں مصروف ہیں اور توقع ہے کہ بہت جلد دونوں ریاستوں میں ملازمین اثاثہ جات اور فنڈس کی تقسیم مکمل ہوجائے گی۔ تقسیم کے ساتھ ہی دونوں ریاستوں میں علحدہ وقف بورڈس کارکرد ہوجائیں گے۔ تلنگانہ حکومت نے عہدیدار مجاز کے طور پر سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کو مقرر کیا ہے جبکہ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا تقرر ابھی باقی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت موجودہ سی ای او محمد اسداللہ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ تاہم علحدہ احکامات کی اجرائی باقی ہے۔

محمد اسد اللہ فی الوقت دونوں ریاستوں میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔تلنگانہ حکومت کی جانب سے سی ای او کے تقرر کے ساتھ ہی آندھراپردیش حکومت کو بھی علحدہ عہدیدار مجاز اور سی ای او کا تقرر کرنا ہوگا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ آندھراپردیش میں مسلم عہدیداروں کی کمی کے باعث ان عہدوں پر تقررات کیلئے حکومت کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ آئی اے ایس ، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں میں بہت کم مسلمان ہیں، اس کے علاوہ مختلف محکمہ جات میں اعلیٰ عہدہ پر مسلمانوں کی تعداد کافی کم ہے ، جس کے باعث وقف بورڈ کے دونوں اہم عہدوں پر تقررات میں حکومت کو عہدیداروں کی تلاش ہے۔ آندھراپردیش میں موجودہ سکریٹری اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال جو کمشنر اقلیتی بہبود اور مینجنگ ڈائرکٹر آندھراپردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن جیسی زائد اہم ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں، انہیں ابتداء میں کچھ عرصہ تک وقف بورڈ کے امور کی نگرانی کرنی پڑے گی۔ اس طرح آندھراپردیش میں محکمہ اقلیتی بہبود عملاً شیخ محمد اقبال کے تحت ہوجائے گا۔ وقف بورڈ کے ملازمین کی تقسیم کے مسئلہ پر اختلاف رائے منظر عام پر آیا۔ آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے تقریباً 6 عہدیدار تلنگانہ میں خدمات انجام دینا چاہتے ہیں لیکن تلنگانہ کے ملازمین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اس تنازعہ کو دیکھتے ہوئے آندھرا کے عہدیداروں کو آندھراپردیش کیلئے الاٹ کردیا گیا اور انہیں حکومت سے نمائندگی کا اختیار دیا گیا۔ اگر حکومت چاہے تو ان کی خدمات تلنگانہ میں حاصل کرسکتی ہے۔ دونوں ریاستوں میں فائلوں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کا فرنیچر بھی دونوں وقف بورڈس میں تقسیم کردیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش وقف بورڈ کیلئے حج ہاؤز کی پانچویں اور چھٹویں منزل پر آفس الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور وہاں موجود خانگی اداروں کے دفاتر کو کسی اور مقام پر منتقل کیا جائے گا۔ اس طرح آندھراپردیش وقف بورڈ کا دفتر بھی حج ہاؤز سے کام کرے گا۔ وجئے واڑہ کے امراوتی میں آندھراپردیش کا دارالحکومت قائم کئے جانے کے بعد وقف بورڈ اور دیگر اقلیتی ادارے امراوتی منتقل ہوجائیں گے۔آندھراپردیش اقلیتی فینانس کارپوریشن کا دفتر حج ہاؤز میں موجود ہے جبکہ کمشنر اقلیتی بہبود کا دفتر انشورنس بلڈنگ تلک روڈ سے کام کر رہا ہے۔ آندھراپردیش حکومت کو تمام اقلیتی اداروں پر عہدیداروں کا تقرر کرنا ابھی باقی ہے۔ اداروں کی تقسیم کے باوجود ابھی تک آندھراپردیش حکومت نے تقررات نہیں کئے۔

TOPPOPULARRECENT