Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرا پردیش کے اسمبلی حلقوں میں اضافہ پر عنقریب فیصلہ

تلنگانہ و آندھرا پردیش کے اسمبلی حلقوں میں اضافہ پر عنقریب فیصلہ

ریاستوں کی نمائندگی پر مرکزی حکومت کا غور ، مرکزی وزیر شہری ترقیات وینکیا نائیڈو
حیدرآباد۔30مارچ (سیاست نیوز) حکومت ریاست کی تنظیم جدید بل میں ترمیم کے متعلق سنجیدہ ہے۔ دونوں ریاستوں آندھرا پردیش و تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کے سلسلہ میں جلد فیصلہ کیا جائیگا۔ مرکزی وزیر شہری ترقیات مسٹر وینکیا نائیڈو نے یہ بات بتائی۔وزارت داخلہ میں ہوئی سرگرمیوں کے بعد یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ حکومت ہند جلد ازجلد تنظیم جدید بل میں ترامیم کے اقدامات کا آغاز کریگی۔  دونوں ریاستوں کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کیلئے کی گئی نمائندگیوں کے بعد اب مرکزی حکومت نے بھی ذہن بنا لیا ہیکہ فی الفور اقدامات کے ذریعہ آندھرا پردیش  و تلنگانہ کی اسمبلی نشستوں میں اضافہ کو یقینی بنایا جائے۔ مسٹر وینکیا نائیڈو کی وزیر داخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ سے ہوئی ملاقات اور مشاورت کے بعد ایسا لگ رہا ہیکہ مرکز کی جانب سے یو پی اے دور حکومت میں تیارکردہ قانون میں ترامیم کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید ایکٹ کی شق 26 میں فراہم کردہ گنجائش کے مطابق ریاست تلنگانہ کی نشستوں کو 119سے بڑھاکر 153کیا جا سکتا ہے اور ریاست آندھرا پردیش کی موجودہ نشستوں 175کو بڑھاتے ہوئے 225 کرنے کی گنجائش ہے۔وزیر شہری ترقیات کے بموجب حکومت کی جانب سے دو علیحدہ طریقہء کار پر غور کیا جا رہا ہے ‘ جس میں ایک تو یہ ہیکہ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ اس عمل کو مکمل کرلیا جائے اور دوسرا قانونی ترامیم پر بھی غور جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ماہرین قانون کی رائے حاصل کی جا رہی ہے تاکہ یہ ترمیم کسی قانونی رسہ کشی کا شکار نہ ہو جائے۔بتایا جاتا ہیکہ وزارت داخلہ کی جانب سے بہت جلد مرکزی وزارت قانون کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے رائے حاصل کی جائیگی۔ علاوہ ازیں اٹارنی جنرل آف انڈیا سے رائے حاصل کرنے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جائیگا۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے بات چیت کے دوران اس یقین کا اظہار کیا کہ بہت جلد دونوں ریاستوں کے عوام کو اسمبلی نشستوں میں اضافے سے متعلق خوشخبری حاصل ہوگی۔ مرکزی وزیر داخلہ اور شہری ترقیات نے اس خصوص میں معتمدین برائے داخلہ‘ قانون ‘ جوائنٹ سیکریٹری پارلیمانی امور و دیگر عہدیداروں سے سرگرم مشاورت مکمل کرلی ہے جو کہ ایک اہم مرحلہ تھا۔

TOPPOPULARRECENT