Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و آندھرا کے سرکاری ملازمین کی تقسیم کا از سر نو جائزہ

تلنگانہ و آندھرا کے سرکاری ملازمین کی تقسیم کا از سر نو جائزہ

کملاناتھن کمیٹی کا کل اہم اجلاس ، دونوں ریاستوں کے چیف سکریٹریز شرکت کریں گے
حیدرآباد ۔ 7 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم اور ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آنے کے بعد سرکاری ملازمین کی تقسیم کے مسئلہ کی یکسوئی کے لیے سینئیر آئی اے ایس عہدیدار مسٹر کملاناتھن کی زیر قیادت قائم کردہ کمیٹی کی جانب سے ملازمین کی تقسیم کے مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے 9 مارچ کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا ۔ اس اجلاس میں دونوں ریاستوں آندھرا پردیش و تلنگانہ کے چیف سکریٹریز کے علاوہ ملازمین کی اڈوائزری کمیٹی کے قائدین بھی شرکت کریں گے ۔ چیف سکریٹری ریاست آندھرا پردیش مسٹر ایس پی ٹھکر پہلی مرتبہ مسٹر کملاناتھن کی زیر قیادت تشکیل دی گئی کمیٹی میں شرکت کریں گے ۔ جب کہ چیف سکریٹری ریاست تلنگانہ ڈاکٹر راجیو شرما گذشتہ دنوں کے دوران منعقدہ اجلاسوں میں شرکت کرچکے ہیں ۔ مسٹر ایس پی ٹھکر ریاست آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری عہدے کا جائزہ حاصل کرنے کے بعد تقسیم ملازمین کمیٹی کا پہلی مرتبہ اجلاس منعقد ہورہا ہے اور پہلی مرتبہ اس اجلاس میں مسٹر ٹھکر شرکت کریں گے ۔ باوثوق سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ سرکاری ملازمین کی تقسیم کے سلسلہ میں اب تک کی گئی کارروائی کی رپورٹ مرکزی حکومت کو پیش کرنے کی کوشش کے ایک حصہ کے طور پر ہی اس اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی تقسیم کمیٹی کی جانب سے اب تک 35 ہزار ملازمین کی تقسیم کے عمل کو مکمل کیا ہے لیکن ان 35 ہزار ملازمین کے منجملہ 5 ہزار ملازمین تحریری طور پر تقسیم کے تعلق سے اپنے اعتراضات پیش کئے ہوئے ہیں ۔ اور ان اعتراضات پر تفصیلی مباحث کے باوجود مسئلہ کی کوئی یکسوئی کے بغیر ہی اجلاس ختم کردئیے گئے ۔ ملازمین کی تقسیم کمیٹی کے اس طرز عمل پر تلنگانہ ملازمین یونینوں نے سخت احتجاج بھی کیا ۔ جوائنٹ سکریٹری مرکزی وزارت داخلہ کی قیادت میں چار ماہ قبل ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد کیا گیا ۔ لیکن اجلاس بے سود ثابت ہوا ۔ لہذا اب ملازمین کی تقسیم کے مسئلہ پر از سر نو جائزہ لینے کے لیے ہی 9 مارچ کو اجلاس طلب کیا جارہا ہے اور مسائل پر تفصیلی غور و خوض کی قوی توقع کی جارہی ہے ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ کئی ملازمین کی جانب سے تلنگانہ میں تعلیم حاصل کرنے سے متعلق جعلی صداقت نامے پیش کئے گئے ۔ تلنگانہ این جی اوز یونین اور تلنگانہ گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن نے جعلی تعلیمی صداقت نامے پیش کرنے والے ملازمین اور ان صداقت ناموں کو قبول کرنے والے نوڈل آفیسرس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ لہذا یہ تمام اہم امور پر 9 مارچ کو منعقد ہونے والے تقسیم کمیٹی کے مجوزہ اجلاس میں غور و خوص کرنے اور کوئی حکمت عملی کو قطعیت دئیے جانے کی قوی توقع کی جارہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT