Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و اے پی وقف بورڈ میں 70کروڑ کی ادائیگی کا تنازعہ

تلنگانہ و اے پی وقف بورڈ میں 70کروڑ کی ادائیگی کا تنازعہ

دونوں ریاستوں کے حکومتی سطح پر مذاکرات کے باوجود مسئلہ کی عدم یکسوئی
حیدرآباد ۔ 8 ۔  فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ اور آندھراپردیش وقف بورڈ کے درمیان 70 کروڑ کی ادائیگی کے مسئلہ پر تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور دونوں حکومتوں کی سطح پر مذاکرات کے باوجود اس مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوپائی۔ وقف بورڈ کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کو ایک سال مکمل ہوگیا لیکن آندھراپردیش حکومت کی شکایت ہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ کی جانب سے آندھراپردیش وقف بورڈ کو واجب الادا 70 کروڑ روپئے جاری کرنے سے انکار کیا جارہا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کے اس رویہ سے آندھراپردیش وقف بورڈ کی سرگرمیاں متاثر ہوچکی ہیں اور انہیں ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے میں دشواری ہورہی ہے۔ اگر تلنگانہ وقف بورڈ اور محکمہ اقلیتی بہبود کی ہٹ دھرمی کا یہی رویہ برقرار رہا تو آندھراپردیش حکومت اپنا حق حاصل کرنے کیلئے عدالت کا درخواست کھٹکھٹاسکتی ہے۔ ریاست کی تقسیم کے وقت جو گزٹ جاری کیا گیا تھا ، اس میں اراضیات اور رقومات کی تقسیم کے بارے میں واضح رہنمایانہ خطوط شامل کئے گئے تھے لیکن تلنگانہ کے عہدیداروں کو گزٹ پر عمل آوری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ آندھراپردیش کی درگاہوں اور اوقافی اداروں کی آمدنی پر مشتمل 40 کروڑ روپئے فکسڈ ڈپازٹ ہے لیکن یہ رقم بھی آندھراپردیش کو منتقل کرنے سے گریز کیا جارہا ہے ۔ اصولاً ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آندھراپردیش وقف بورڈ سے تلنگانہ وقف بورڈ علحدہ ہوتا لیکن یہاں تلنگانہ وقف بورڈ سے آندھراپردیش کو تقسیم کیا گیا۔ اس کی وجہ تلنگانہ میں عہدیداروں اور ملازمین کی اکثریت ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کو واجب الادا رقومات میں حج ہاؤز کے دونوں جانب استعمال کی گئی 23 کروڑ روپئے کی رقم بھی شامل ہے۔ زیر تعمیر کامپلکس میں 18 کروڑ اور کھلی اراضی کی خریدی کیلئے 5 کروڑ روپئے آندھراپردیش کے استعمال کئے گئے۔ ریاست کی تقسیم کے قانون کے تحت تلنگانہ وقف بورڈ کو 23 کروڑ روپئے معہ سود واپس کرنے ہیں۔ اس قانون کے تحت آندھراپردیش کو رقم میں 45 فیصد اور تلنگانہ کو 55 فیصد حصہ دیا گیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھراپردیش کو کیاش ان ہینڈ کے تحت 4 کروڑ 50 لاکھ روپئے کی ادائیگی بھی باقی ہے۔ آندھراپردیش کے اداروں کی حج ہاؤز سے منتقلی کے وقت مزید 3 کروڑ روپئے ادا کرنے ہوں گے ۔ آندھراپردیش وقف بورڈ کے ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ عہدیداروں کا رویہ ناقابل فہم ہے جو واجب الادا رقومات جاری کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ اس کے لئے کچھ نہ کچھ بہانے تلاش کئے جارہے ہیں۔ آندھراپردیش کے سکریٹری اقلیتی بہبود ایس ایس راوت اور کمشنر اقلیتی بہبود شیخ محمد اقبال نے ایک سے زائد مرتبہ تلنگانہ کے اقلیتی بہبود عہدیداروں سے بات چیت کی ۔

TOPPOPULARRECENT