Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ و دیگر ریاستوں کے درمیان تنازعات کو ممکنہ حد تک حل کرنے کا عزم

تلنگانہ و دیگر ریاستوں کے درمیان تنازعات کو ممکنہ حد تک حل کرنے کا عزم

کرناٹک اور مہاراشٹرا کے ساتھ تعلقات اولین ترجیح ، ڈی سرینواس کا حصول جائزہ کے بعد خطاب
حیدرآباد۔/28 اگسٹ، ( سیاست نیوز) سینئر قائد ڈی سرینواس نے آج تلنگانہ حکومت کے خصوصی مشیر کے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔ سکریٹریٹ میں حکومت کی جانب سے انہیں چیمبر الاٹ کیا گیا ہے جہاں انہوں نے اپنی ذمہ داری سنبھالی۔ اس موقع پر مختلف قائدین اور عہدیداروں نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد چیف منسٹر نے کے چندر شیکھر راؤ نے انہیں حکومت کا خصوصی مشیر مقرر کرتے ہوئے انہیں کابینی درجہ فراہم کیا ہے۔ انہیں بین ریاستی تنازعہ اور اُمور کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ جائزہ حاصل کرنے کے موقع پر ڈی سرینواس کے حامیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی سرینواس نے کہا کہ وہ تلنگانہ اور دیگر ریاستوں کے درمیان جاری تنازعات کی یکسوئی کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاستوں کے ساتھ پانی اور دیگر اُمور پر طویل عرصہ سے تنازعات موجود ہیں۔ وہ اس بات کی کوشش کریں گے کہ ان تنازعات کی خوشگوار انداز میں یکسوئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انہیں جو ذمہ داری دی ہے وہ اس کی تکمیل کیلئے حتی المقدور مساعی کریں گے۔ کرناٹک اور مہاراشٹرا کے ساتھ آبپاشی سے متعلق مسائل پر تنازعات کی یکسوئی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ کے ساتھ مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں پیشرفت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت کے سبب تلنگانہ کو کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی سرینواس نے کہا کہ جدوجہد کے ساتھ تلنگانہ حاصل کرنے کے تجربہ کے پس منظر میں وہ بین ریاستی مسائل کی یکسوئی کے طریقہ کار سے اچھی طرح واقف ہیں، انہیں اس سلسلہ میں کسی سے  سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے تمام جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ متحدہ طور پر سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے مساعی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ میں تلنگانہ کو ملک کی دیگر ریاستوں سے آگے رکھنے کیلئے مشترکہ مساعی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کیلئے جو منصوبہ تیار کیا ہے اسے عوام کی بھرپور تائید حاصل ہورہی ہے۔ وہ کے سی آر کی رہنمائی میں بین ریاستی مسائل کی یکسوئی کی کوشش کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT