Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم

تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم

سینئیر قائدین کو نظر انداز کرنے اور نئے چہروں کو موقع فراہم کرنے پر اظہار حیرت ، خلیق الرحمن
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : قومی کوآرڈینٹر کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد خلیق الرحمن نے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا ہے ۔ چند سینئیر قائدین کو نظر انداز کر کے نئے چہروں کو موقع فراہم کرنے پر حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ مسٹر محمد خلیق الرحمن نے نوجوانوں اور سینئیر قائدین پر مشتمل پردیش کانگریس عاملہ تشکیل دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا جوش اور سینئیر قائدین کا تجربہ مستقبل میں پارٹی کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔ انہیں عاملہ سے توقعات وابستہ ہیں ۔ انہوں نے پہلی مرتبہ جنرل سکریٹریز کی فہرست میں 4 مسلمانوں کو شامل کرنے کی ستائش تاہم سینئیر قائد مسٹر محمد سراج الدین کو نظر انداز کردینے اور نئے چہرے عظمی شاکر کو شامل کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں سینئیر قائدین سے نا انصافی ہوئی ہے ۔ جب جمبو جٹ کمیٹی تشکیل دی گئی تو مزید قائدین کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوئی عہدے کے دعویدار نہیں ہیں ۔ قومی کانگریس کی رکنیت اور سرگرمیوں سے مطمئن ہے صرف نا انصافیوں کی نشاندہی کررہے ہیں ۔ گریٹر حیدرآباد سے سدی پیٹ میونسپلٹی تک تمام انتخابات میں پارٹی کو شکست ہوئی ہے ۔ مگر پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی اجلاس طلب نہیں کیا گیا اور نہ ہی شکست کی وجوہات معلوم کرنے پارٹی کارکنوں اور عوام کے نبض کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے ۔ صرف چند قائدین پر ہی اکتفا کیا جارہا ہے ۔ دوسرے قائدین کو پارٹی کی سرگرمیوں ، انتخابات ، ٹکٹوں کی تقسیم اور دوسرے معاملت سے دور رکھتے ہوئے انہیں نظر انداز کردیا جارہا ہے ۔ ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچائی جارہی ہے ۔ اگر ان کی خدمات سے استفادہ کیا جاتا تو یہ پارٹی کے لیے اثاثہ ثابت ہوتے مسٹر خلیق الرحمن نے بتایا کہ کانگریس قائدین صرف اپنے آپ کو گاندھی بھون میں پریس کانفرنس تک محدود رکھے ہوئے ہیں ان کا عوام سے رابطہ ختم ہوگیا ہے ۔ عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے قائدین کو گھروں سے نکل کر عوام کے درمیان پہونچنا ضروری ہے ۔ وہ نئی کمیٹی سے امید کرتے ہیں کہ وہ عوامی مسائل کو جاننے اور اس کے حل کروانے کے لیے جدجہد کرے گی ۔ کانگریس قائدین کی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر بھی ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خلیق الرحمن نے کہا کہ اس کے لیے کے سی آر ، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو مورد الزام ٹھہرانے سے قبل کانگریس قائدین پہلے اپنا محاسبہ کریں کہ وہ کیسے قائدین کو عہدے دے رہے ہیں ۔ پارٹی سے ان کی وفاداری کتنی ہے اور بھی کئی قائدین ٹی آر ایس سے رابطے میں ہونے کی میڈیا کے ذریعہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں ۔ انہیں روکنے کے لیے پارٹی کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ کانگریس دور حکومت میں وزارت اور دیگر عہدوں پر فائز قائدین چھٹیاں منا رہے ہیں ۔ پارٹی کے نازک حالت میں پارٹی کیڈر کے ساتھ کھڑے رہنے کے بجائے گھروں تک محدود ہے یا اپنے آپ کو تجارت میں مصروف کرچکے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT