Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کابینہ میں آئندہ ہفتہ رد و بدل کا امکان

تلنگانہ کابینہ میں آئندہ ہفتہ رد و بدل کا امکان

گورنر نرسمہن سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی ملاقات ، کابینی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال
حیدرآباد ۔ 9 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ ریاستی کابینہ میں آئندہ ہفتہ تک رد و بدل کے قوی امکانات پائے جاتے ہیں ۔ جب کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج گورنر تلنگانہ و آندھرا پردیش مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کی اور اپنی کابینہ میں رد و بدل کرنے کے مسئلہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔ اس طرح چیف منسٹر کی آج اچانک گورنر سے ملاقات کی روشنی میں ریاستی کابینہ میں رد و بدل کے امکانات کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔ راج بھون کے باوثوق ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ دنوں کے دوران ہی اپنی کابینہ میں رد و بدل کا اپنے قریبی حلقوں میں اظہار کیا تھا لیکن اسمبلی سیشن وغیرہ کے پیش نظر ان کے قریبی رفقاء نے اسمبلی سیشن کے اختتام تک کابینہ میں رد و بدل کے مسئلہ کو ٹالنے کا مشورہ دیا تھا جس پر سمجھا جاتا ہے کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے مثبت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس مسئلہ کو ( کابینہ میں رد و بدل کے مسئلہ کو ) عارضی طور پر ملتوی رکھا تھا ۔ لیکن اب جب کہ ریاستی قانون ساز اسمبلی کے بجٹ سیشن کا کامیابی کے ساتھ اختتام عمل میں آیا ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دیگر جماعتوں سے حالیہ عرصہ کے دوران تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شامل ہونے بعض ارکان اسمبلی کو بھی کابینہ میں کسی نہ کسی طرح موقعہ فراہم کرنے کا یقین دلایا تھا ۔ اس طرح اپنی کابینہ میں رد و بدل کے ذریعہ بعض نئے چہروں کو کابینہ میں شامل کرنے اور بعض موجودہ کابینی وزراء کو تبدیل کرنے پر مسٹر چندر شیکھر راؤ سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ علاوہ ازیں بعض کابینی رفقاء کے قلمدانوں میں بھی رد و بدل کرنے کا چیف منسٹر ارادہ رکھتے ہیں ۔ اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس زیر قیادت حکومت تشکیل پائے ہوئے تقریبا دو سال ہونے والے ہیں اور ان دو سال کے دوران اپنی کابینہ میں کسی خاتون وزیر کی غیر موجودگی پر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ مختلف گوشوں سے تنقیدوں کا سامنا کررہے چیف منسٹر نے اس مرتبہ کابینہ میں رد و بدل کے موقعہ پر کسی خاتون رکن اسمبلی کو کابینہ میں شامل کرنے کا بھی ارادہ کرلیا ہے ۔ مزید بتایا جاتا ہے کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کسی وزیر کو کابینہ سے نکالنا چاہئے کن کا قلمدان تبدیل کرنا چاہئے اور کن کو کابینہ میں شامل کیا جانا چاہئے اس تعلق سے بھی اپنا فیصلہ کرلیا ہے ۔ اسی ذرائع نے کہا کہ بعض وزراء کے تعلق سے کرپشن کی شکایات پائی جاتی ہیں جس کا خود چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو پوری طرح سے علم ہے اسی دوران مزید بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دن اگادی پنچانگم کے موقعہ پر بھی پنڈت کی جانب سے محکمہ جات تعلیم اور صحت کے تعلق سے ناموافق حالات پائے جانے کے ریمارکس کیے جس کے ساتھ ہی خود چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے مزاحیہ انداز میں ڈپٹی چیف منسٹر اور تعلیم مسٹر کے سری ہری اور وزیر صحت و طبابت مسٹر لکشما ریڈی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہوشیار رہیں ۔ ان ریمارکس کے ساتھ ہی بظاہر ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کے سری ہری اور وزیر صحت لکشما ریڈی نے خاموشی تو اختیار کرلی لیکن پنڈت کے ریمارکس اور چیف منسٹر کی جانب سے خبردار کرنے کے باعث دونوں ہی پریشان کن حالات سے دوچار دکھائی دے رہے ہیں ۔ کیوں کہ خصوصی طور پر اگادی پنچانگم میں محکمہ تعلیم اور صحت و طبابت کے تعلق سے ہی کیوں ریمارکس کئے گئے ۔ اس تعلق سے مسٹر کے سری ہری اور مسٹر لکشما ریڈی زبردست تشویش میں مبتلا پائے جاتے ہیں ۔ تاہم پنچانگم میں کئے گئے ریمارکس کے باعث تمام وزراء میں یہی مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے اس کے علاوہ آج چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی اچانک گورنر مسٹر ای ایس ایل نرسمہن سے ملاقات کے فوری بعد وزراء کی تبدیلی اور قلمدانوں میں رد و بدل کے تعلق سے کئی پیش قیاسیاں کی جارہی ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT