Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ ، وزراء کی کارکردگی پر رپورٹ کی تیاری

تلنگانہ کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ ، وزراء کی کارکردگی پر رپورٹ کی تیاری

وزراء کی پیشی میں سرگرمیوں پر اینٹی کرپشن و انٹلی جنس کی نظر ، چیف منسٹر کے سی آر کی سخت ناراضگی
حیدرآباد ۔ 18۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے مختلف ذرائع سے رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے جس طرح ملک کے تمام چیف منسٹرس کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اسی طرز پر کے سی آر نے مختلف ذرائع سے رپورٹ حاصل کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران چیف منسٹر نے انٹلیجنس اور دیگر خانگی اداروں سے دو مرتبہ کارکردگی رپورٹ حاصل کی اور اس کی بنیاد پر بعض وزراء کے قلمدانوں میں تبدیلی کی گئی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے وزراء کی کارکردگی اہم کلید ثابت ہوگی۔ جن وزراء کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں پائی گئی، انہیں وزارت سے علحدہ کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ 17 وزراء میں چیف منسٹر نے پہلے ہی 4 وزراء کی علحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے، جن میں سے 2 وزراء کو پارٹی کی اہم تنظیمی ذمہ داری دی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر دو سالہ کارکردگی کی بنیاد پر وزراء کی برقراری یا علحدگی کا فیصلہ کریں گے اور مجوزہ رپورٹ کی بنیاد پر کابینہ میں رد و بدل کیا جائے گا ۔ چیف منسٹر کے پاس جو رپورٹس داخل کی گئی ہیں، ان میں اطلاعات کے مطابق کئی اہم محکمہ جات سے متعلق وزراء کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ وزراء کی اپنے متعلقہ محکمہ جات پر مکمل گرفت ہو، چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے اس بات کی توثیق کی کہ آئندہ ایک ماہ میں پیش کی جانے والی رپورٹ اہمیت کی حامل ہوگی۔ جن امور پر رپورٹ طلب کی جارہی ہیں ، ان میں وزراء کی متعلقہ محکمہ جات پر گرفت، محکمہ کی کارکردگی ، وزراء کے حلقہ جات میں ترقیاتی کام اور ان کی عوامی مقبولیت کے علاوہ وزراء کی پیشی میں جاری سرگرمیوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ کئی وزراء کے بارے میں شکایات ملی ہیں کہ وہ اپنے حلقہ جات میں ترقیاتی کام کی انجام دہی سے قاصر ہے، وہ حلقہ کے عوام کو مناسب وقت نہیں دے پارہے ہیں۔ جس سے عوامی ناراضگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ بعض وزارتوں میں بڑے پیمانہ پر کرپشن کی بھی شکایات موصول ہوئی ہیں اور عہدیداروں کے تقررات اور تبادلوں میں وزراء کی پیشی ملوث پائی گئی۔ پیشی میں موجود عہدیدار کھلے عام رشوت حاصل کر رہے ہیں اور عوام سے مختلف کاموں کی یکسوئی کیلئے رقومات کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ بعض اہم محکمہ جات میں اندرونی طور پر اپنے پسندیدہ عہدوں کیلئے عہدیداروں کو بھاری رشوت ادا کرنی پڑی۔ وزراء کی پیشیوں میں جاری ان سرگرمیوں سے چیف منسٹر سخت ناراض ہیں اور انہیں رپورٹ پیش کی گئی کہ اس طرح کی سرگرمیوں کو بعض وزراء کی سرپرستی حاصل ہے۔ وزراء کی پیشی میں جاری سرگرمیوں کے بارے میں مختلف اخبارات میں شائع شدہ خبروں کا بھی چیف منسٹر نے سختی سے نوٹ لیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ خبروں کی حقائق کا پتہ چلانے کیلئے انٹلیجنس اور اینٹی کرپشن بیورو کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں بعض انگریزی اور تلگو اخبارات میں وزراء کی قیامگاہوں اور پیشیوں میں جاری سرگرمیوں پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی جس کے بعد یہ معاملہ سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT