Tuesday , September 26 2017
Home / اداریہ / تلنگانہ کابینہ کے فیصلے

تلنگانہ کابینہ کے فیصلے

آپ سُن لیں تو سمجھ لیں گے مرا حُسنِ طَلب
خود مرا ذکر نہیں ہے مرے افسانوں میں
تلنگانہ کابینہ کے فیصلے
حکومت تلنگانہ نے میاں پور اراضی اسکام کے بعد بیداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے موجودہ قوانین میں ترمیمات لانے کا فیصلہ کیا۔ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں منظورہ چار آرڈیننس کی مدد سے موجودہ تھری ٹائیر زونل سسٹم کو برخاست کیا جارہا ہے۔ اس کی جگہ ٹو ٹائیر زونل سسٹم برائے سرکاری ملازمین کے تقررات کو یقینی بنایا جائے گا اس کے لئے آرٹیکل 371(D) میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ کابینہ کی منظوری کو صدرجمہوریہ کی جانب سے توثیق حاصل ہونا بھی لازمی ہے۔ ان ترمیمات کے ذریعہ حکومت حقوق قانون کے ریکارڈ میں ترمیم بھی کی جائے گی۔ اس سے سرکاری اراضیات کے تمام نوعیت کے رجسٹریشن پر پابندی اور غیر قانونی طریقہ سے رجسٹرڈ کروائی گئی گی اراضیات کی منسوخی بھی ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حکومت کے ان ترمیمات کے بعد سرکاری اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے گا کیوں کہ موجودہ قانون کے تحت بھی غیر قانونی معاملت نہیں کئے جاسکتے اور یہ کیا یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ حکومت اپنے ان اقدامات کے ذریعہ سرکاری اراضیات کو لینڈ مافیا سے محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوسکے گی۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری محکموں میں جس طرح کی دھاندلیاں اور بدعنوانیاں کی جاتی ہیں اس کی اصل کڑی سیاستدانوں اور متمول افراد سے جا ملتی ہے۔ سیاست میں سرکاری اراضیات کے تحفظ کے لئے ریاستی کابینہ کا یہ فیصلہ میاں پور اراضی اسکام کے تناظر میں کیا گیا ہے تو ریاست میں ایسی کئی جاگیر اراضیات ہیں جن پر لینڈ مافیا نے قبضہ کیا ہے یا غیر قانونی طریقہ سے انھیں ہڑپ لیا ہے۔ ریاست میں اراضیات کا معاملہ عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔ خاصکر وقف اراضیات پر ناجائز قبضہ اور لینڈ مافیا کے ذریعہ ان کو ہڑپ لینے کے متعدد معاملے پائے جاتے ہیں۔ میاں پور کی جاگیر اراضی کو خانگی اداروں کے نام رجسٹرڈ کروایا گیا تھا۔ حکومت کم از کم اس معاملہ کے منظر عام پر آنے کے بعد وقت پر بیدار ہوتی ہے۔ ریاستی کابینہ نے ریاست میں سٹے بازی اور جوے کے واقعات پر روک لگانے کے لئے گینگ ایکٹ میں بھی ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں سٹے کا کاروبار خاص کر کرکٹ پر سٹہ کا چلن عام ہوگیا ہے۔ آن لائن گیملنگ پر پابندی عائد کرنے سے کسی حد تک سٹے بازی پر قابو پایا جاسکے۔ تیسرا آرڈیننس پی ڈی ایکٹ میں ترمیم ہے۔ اس قانون کی مدد سے تخم اور فرٹیلائزر (کھاد) میں آمیزش کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ جعلی تعلیمی اسنادات اور غذائی اشیاء میں ملاوٹ کو روکنے کے لئے موجودہ قوانین کے ذریعہ کارروائی کی جاسکتی ہے مگر ریاستی کابینہ نے گیملنگ ایکٹ میں ترمیم کرکے جعلسازی کے تمام کاموں کو روکنا چاہتی ہے۔ غذائی اشیاء میں ملاوٹ کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے خاص کر حالیہ دنوں میں دودھ میں ملاوٹ، ادرک لہسن میں ملاوٹ، چاول میں ملاوٹ اور مصالحہ جات میں ملاوٹ کے واقعات رونما ہوتے آرہے ہیں۔ دودھ کے کاروبار میں ملاوٹ انسانی صحت کے لئے مضر ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں ریاستی کابینہ کا یہ آرڈیننس ملاوٹ کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مضبوط ہتھیار ثابت ہوسکتا ہے۔ پہلے بھی ایسے قوانین سے پولیس اور محکمہ صحت و دیگر ادارے مل کر بدعنوانیوں، ملاوٹ کے واقعات کو روکنے میں کارروائی کی جاسکتی تھی لیکن متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کی لاپرواہی یا بدعنوانیوں نے دھوکہ دہی کے کاروبار کو فروغ دے دیا ہے۔ ریاستی کابینہ نے اپنے فیصلوں کے ذریعہ سرکاری محکموں کو مضبوط اور پابند بنایا ہے۔ اس کے ساتھ کابینہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ اپنے منظورہ اقدامات پر دیانتداری اور فرض شناسی کے ساتھ عمل ہورہا ہے یا نہیں۔ اکثر کابینی فیصلے صرف وقتی حرکت تک ہی محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ کابینہ نے محکمہ پولیس میں 26,290 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کا بھی فیصلہ کیا ہے جو ایک مستحسن اقدام ہے اس سے بے روزگار نوجوانوں کو راحت ملے گی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد تلنگانہ میں کسی حد تک جرائم پر قابو پانے میں سرکاری محکمے سرگرم ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT