Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کا بجٹ مثالی اور غیر معمولی

تلنگانہ کا بجٹ مثالی اور غیر معمولی

ریاست میں اردو کو فروغ دینے اقدامات پر زور فاروق حسین کا بیان
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ سالانہ بجٹ کو غیر معمولی نوعیت و ایک الگ انداز میں پیش کردہ مثالی بجٹ ثابت ہورہا ہے کیوں کہ اس بجٹ میں ہر طبقہ و ہر شعبہ کے ساتھ مکمل انصاف کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رقومات مختص کیے گئے ۔ علاوہ ازیں انگلش میڈیم مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلباء کے لیے اردو کو لازمی مضمون کے طور پر سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام کلکٹریٹ دفاتر میں اردو مترجمین و اردو ٹائپسٹ کا تقرر کرنے ریاستی قانون ساز اسمبلی و کونسل میں اردو ٹرانسلیٹرس ، انٹر پریٹرس و اردو کمپیوٹر آپریٹرس کے تقررات عمل میں لانے کا حکومت سے مطالبہ کیا گیا ۔ آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں پیش کردہ بجٹ پر مباحث کا آغاز کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل مسٹر محمد فاروق حسین نے مذکورہ اظہار خیال کیا اور غیر معمولی بجٹ کی پیشکشی کا خیر مقدم کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ وزیر فینانس ای راجندر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے اظہار تشکر بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو ریاست کے عوام کی بہبود سے خصوصی دلچسپی پائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے سال کا پیش کردہ بجٹ سنہرے تلنگانہ کے لیے صد فیصد ضامن ثابت ہوگا کیوں کہ مسلم طلباء کے لیے ایس سی ، ایس ٹی کے خطوط پر اسکالر شپس و میس چارجس دینے ، مساجد کے ائمہ و موذنوں کے سالانہ مشاہرہ کو ایک ہزار روپئے سے بڑھاکر 1500 روپئے کیا گیا اور غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے لیے رقم میں اضافہ کرکے 75,116 روپئے کردئیے گئے ۔ مسٹر فاروق حسین نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے بجٹ میں 41 کروڑ روپئے کا اضافہ کر کے 1249.66 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ مسلم اقلیتوں کے لیے 201 اقامتی مدارس قائم کئے گئے اس طرح اقلیتوں کے ہر گھر میں چراغ روشن کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ آج کے حالات میں ہر مرض کی دوا علم ہی ہے ۔ مسٹر فاروق حسین نے اقلیتی طلباء کے لیے پیشہ وارانہ کورسیس میں تعلیم کے حصول کے لیے فیس ری ایمبرسمنٹ کو 35 ہزار روپئے کی حد کو ختم کر کے صد فیصد فیس ری ایمبرسمنٹ فراہم کر کے ، ہاکرس ، حمالوں و چھوٹے مسلم تاجروں کو بینک کے بغیر راست حکومت خود کم از کم 20 ہزار روپئے قرض رقومات فراہم کرتے ہوئے دس ہزار روپئے سبسیڈی فراہم کر کے اردو اکیڈیمی کے ذریعہ اردو اوپن اسکولس کا احیاء عمل میں لانے ، اجمیر شریف میں رباط کی تعمیر کو یقینی بنانے ، غریب مسلمانوں کو بھی ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے خطوط پر تین ایکڑ زرعی اراضی فراہم کرنے ، ملازمتوں کے لیے منعقد کئے جانے والے ٹسٹس ( امتحانات ) اقلیتی طبقہ کے امیدواروں کو اردو زبان میں تحریر کرنے کی سہولت و اجازت فراہم کر کے آوٹ سورسنگ ایجنسیز کے اقلیتی افراد کو بھی لائیسنس فراہم کر کے انہیں مختلف محکمہ جات تقررات عمل میں لانے کے لیے الاٹ کرنے ، وقف بورڈ کو جوڈیشیل اختیارات دینے ، اردو اساتذہ کے تقررات عمل میں لانے ، گورنمنٹ صدر شفا خانہ یونانی میں پائی جانے والی تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کے لیے موثر ومثبت اقدامات کرنے کا چیف منسٹر مسٹر کے سی آر سے پر زور مطالبہ کیا ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT