Friday , April 28 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ کا ترقی سے مربوط اور ٹیکس فری بجٹ پیش

تلنگانہ کا ترقی سے مربوط اور ٹیکس فری بجٹ پیش

تقریباً1.50لاکھ کروڑ کے منصوبہ مصارف‘ نوٹ بندی کے سبب ریاست کی آمدنی متاثر : وزیر فینانس ایٹالہ راجندر

حیدرآباد ۔ 13مارچ ( سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے آج ترقی سے مربوط فلاح و بہبود کا حامل ٹیکس فری بجٹ پیش کیا جس میں آبپاشی شعبہ پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ۔ مالی سال 2017-18ء کیلئے تقریباً 1.50لاکھ کروڑ روپئے کے مصارف کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے ۔ ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر نے اپنے بجٹ تقریر میں کہا کہ مرکز کی جانب سے نوٹ بندی کے سبب تلنگانہ کی آمدنی پر کافی اثر پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی گرانٹس میں کمی آئی ‘ اس کی وجہ عدالتی مقدمات ‘ اراضیات کی فروخت نہ ہونا ہے ۔ اس کے علاوہ کمرشیل ٹیکسیس کے بقایا جات بھی وصول نہیں کئے جاسکے ۔ بڑی کرنسی کا چلن بند کرنے کے فیصلہ نے بھی ریونیو کلکشن پر اثر ڈالا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سارے معاملات ریاستی حکومت کے کنٹرول کے باہر تھے ۔ نظرثانی شدہ تخمینہ کے مطابق سال 2016-17ء میں جملہ تخمینہ 1,12,191.07کروڑ روپئے کیا گیا ہے جو86.02فیصد حصہ ہوتا ہے ۔ ریاست کی موجودہ معاشی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے تخمینہ کے مطابق ریاست کی مجموعی شرح ترقی امکان ہے کہ دو ہندسی عدد 10.1فیصد تک جائے گی جب کہ قومی مجموعی شرح ترقی جی ڈی پی 7.1فیصد ہونے کی توقع ہے ۔ مسٹر ایٹالہ راجندر نے سال 2017-18ء کیلئے 1,49,64600 کروڑ روپیوں کے تخمینہ پر مبنی سالانہ ریاستی بجٹ آج ایوان تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جبکہ گذشتہ سال 2016-17ء کا سالانہ ریاستی بجٹ 1,30,415 کروڑ روپیوں پر مشتمل تھا ۔ آج پیش کردہ بجٹ کی روشنی میں گذشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال کے بجٹ رقومات میں صرف 19,231 ہزار کروڑ روپیوں کا اضافہ کیا گیا ۔ وزیر فینانس نے اپنی بجٹ تقریر میں درج فہرست اقوام و قبائل پسماندہ و اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود پر ہی اولین ترجیح دیتے ہوئے بجٹ مرتب کرنے کا اظہار کیا اور بتایا کہ تمام طبقات کیلئے اطمینان بخش بجٹ ثابت ہوگا ۔ اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ میں 1249.66 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ کا مسلسل چوتھا موازنہ (بجٹ) پیش کرنے کا انہیں اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ انہوں نے آج کے پیش کردہ سالانہ موازنہ کو غریب طبقات کی بہبود و ریاست کی معاشی ترقی کیلئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی فکر کی عکاسی کرتا ہے‘ جیسا کہ گذشتہ سال سے پیش کردہ موزانہ ( بجٹ) کی روایت رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا اہم مقصد یہ ہیکہ ترقی کے فوائد غریبتکپہنچیں۔ وزیر فینانس نے کہا کہ آج پیش کیا جانے والا موازنہ ریاست کے غریبوں کی بہبود کیلئے چیف منسٹر کی فکرمندی ‘ فروغ آمدنی ‘ مواقع کی فراہمی اور ان کیلئے روزگار اور ہر ممکنہ اقدام کا مظہر ہے تاکہ مختصر مدت میں سنہرا تلنگانہ کے ویژن کو حقیقت میں بدلا جاسکے ۔ مسٹر ای راجندر نے مختلف محکمہ جات کیلئے مختص کردہ بجٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بیرونی ممالک میں درج فہرست اقوام و قبائل و اقلیتی طبقات کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے دی جانے والی رقومات کو دس لاکھ سے بڑھاکر 20لاکھ روپئے کیاگیا ۔ بلدیات میں کام کرنے والے صفائی ورکروں کی اجرتوں میں اضافہ کر کے 12,500 روپئے ‘ آنگن واڑی ٹیچرس کی اجرتوں میں اضافہ کر کے 10,500 روپئے فراہم کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال کمرشیل ٹیکس کے مقررہ نشانہ کو پورا نہیں کیا جاسکا جس کی وجہ سے ریاست کی آمدنی میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی جبکہ کمرشیل ٹیکس کے ذریعہ 42073 کروڑ روپیوں کے حصول کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا لیکن صرف 37439کروڑ روپئے ہی حاصل ہوسکے ۔ اس طرح 6ہزار کروڑ روپیوں کی کمی واقع ہوئی ۔ اسی طرح محکمہ رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس کے ذریعہ گذشتہ سال 4291 کروڑ روپیوں کا نشانہ مقرر کیا گیا تھا لیکن صرف 4041 کروڑ روپئے ہی حاصل ہوسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال محکمہ نشہ بندی و آبکاری کے ذریعہ 5083 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوئی ۔ اس سال محکمہ آبکاری کے ذریعہ 8999 کروڑ روپئے آمدنی کا نشانہ رکھا گیا ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ ریاستی عوام کی توقعات کے مطابق ہی تلنگانہ ریاست کا بجٹ مرتب کیا گیا جبکہ متحدہ آندھراپردیش ریاست میں علاقہ تلنگانہ کے ساتھ کافی ناانصافی کی گئی جس کی وجہ سے علاقہ تلنگانہ پسماندگی سے دوچار رہا ۔ مسٹر ای راجندر وزیر فینانس نے ان پر مکمل اعتماد و بھروسہ رکھتے ہوئے بجٹ کی پیشکش کی ذمہ داری سونپنے پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اظہار تشکر کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT