Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / تلنگانہ کا سب سے بڑا ضلع محبوب نگر

تلنگانہ کا سب سے بڑا ضلع محبوب نگر

ایم اے مجیب ۔ نمائندہ سیاست محبوب نگر
ضلع محبوب نگر زمانہ قدیم میں رکماپیٹ اور پالمور کے نام سے موسم تھا۔ آصفجاہی دور میں نواب میر محبوب علی خان آصفجاہ سادس (1869-1911) کے نام پر 1883 میں ضلع کا نام محبوب نگر رکھا گیا اور انتظامی سہولتوں کی خاطر اسی سال ضلع کا مستقر ناگر کرنول سے محبوب نگر منتقل کیا گیا ۔
ضلع محبوب نگر16-2 ڈگری تا 17-4 ڈگری عرض بلا شمالی اور 77-12 ڈگری تا 79-10 ڈگری طول بلا مشرقی کے درمیان واقع ہے ۔ دریائے کرشنا اس ضلع کو کرنول اور گنٹور اضلاع سے علحدہ کرتا ہے ۔ ضلع کے مشرق میں ضلع نلگنڈہ اور گنٹور مغرب میں ، ضلع رائچور اور گلبرگہ (کرناٹک)  شمال میں اضلاع حیدرآباد و نلگنڈہ اور جنوب میں دریائے کرشنا و تنگبھدرا بہتی ہیں ۔ ضلع کا کل رقبہ 18432 مربع کیلومیٹر ہے ۔ محبوب نگر ضلع کو تلنگانہ کے سب سے بڑے ضلع کا درجہ حاصل ہے ۔ محبوب نگر ضلع میں پہلے 12 تعلقہ جات تھے اچم پیٹ ، عالم پور ، آتماکور ، گدوال ، کلواکرتی، کوڑنگل ، کولا پور ، محبوب نگر ، مکتھل ، ناگر کرنول ، شاد نگر اور ونپرتی۔ لیکن بعد میں جڑچرلہ کو بھی تعلقہ کا درجہ دیا گیا ۔ اسی طرح منڈلوں کو تشکیل سے قبل یہ 13 تعلقہ جات پر مشتمل تھا ۔ 4 ریونیو ڈیویژنس محبوب نگر ، نارائن پیٹ ، ناگر کرنول اور گدوال تھے ۔ 1985 میں 20مئی کو تلگو دیشم کی حکومت نے انتظامی سہولت کیلئے منڈلس تشکیل دئے چنانچہ 64 منڈلس تشکیل پائے ۔ ریونیو ڈیویژنس میں ونپرتی کا اضافہ ہوا۔ اب ریونیو ڈیوژنس کی تعداد 5 ہے ۔ ضلع میں بے اعتبار رقبہ اچم پیٹ بڑا تعلقہ ہے تاہم اس میں بڑا حصہ محفوظ جنگلات کا ہے ۔
ضلع محبوب نگر کی آب و ہوا موسم گرما میں گرم اور مانسون اور سرما میں سرد ہوتی ہے ۔ ضلع میں بارش کا سالانہ اوسط 26-5 (انچ) یعنی 673.3 ملی میٹر ہے ۔ جس کا 77 فیصد حصہ موسم بارش میں ہی برستا ہے ۔ ستمبر کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے ۔ ڈسمبر کا مہینہ کافی سرد ہوتا ہے ۔ وسط فبروری سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے اور ماہ مئی کافی گرم ہوتا ہے ۔ ضلع میں دو دریا دریائے کرشنا اور دریائے تنگبھدرا بہتے ہیں ۔ دریائے کرشنا مکتھل منڈل کے قریب داخل ہوتا ہے ۔ مکتھل ، گدوال ، آتماکور ، ونپرتی ، کولاپور ، عالم پور اور اچم پیٹ سے گذرتا ہے ۔ دریائے تنگبھدرا گدوال اور عالم پور سے گذرتا ہے ۔ دریائے ڈنڈی جو دریائے کرشنا کی معاون ندی ہے کلوکرتی اور اچم پیٹ سے گذرتی ہے اور چندرا گری سے 29 کیلومیٹر کے فاصلے پر دریائے کرشنا سے ملتی ہے ۔ دریائے کرشنا کے دوسرے معاون یداواگوادر چناواگو ہیں ۔ پداواگو کو روک کر کوئل ساگر پراجکٹ اور چناواگو پر سرلا ساگر پراجکٹ تعمیر کئے گئے ہیں۔دریائے کرشنا پر سری سیلم اور جورالا پراجکٹس تعمیر کئے گئے ۔
2001 کی مردم شماری کے لحاظ سے ضلع کی آبادی 35,06,876 جس میں 17,79,92 مرد اور 17,26,884 خواتین شامل ہیں ۔ ضلع محبوب نگر ہمہ لسانی ضلع کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے ۔ اکثریت تلنگی بولنے والوں کی ہے ۔ جس کے بعد اردو کا درجہ ہے ۔ قبائلیوں میں چنچو کی اکثریت ہے  ۔ اچم پیٹ کے امرآباد کے جنگلات ان کا ٹھکانہ ہیں ۔ چنچو خاص لہجے میں تلگو بولتے ہیں ۔ اس ضلع میں مختلف ادوار میں کئی خاندانوں کی حکومت رہی ہے جن میں چالوکیہ راشٹرکوٹ کلیانی کے مغربی چالوکیہ وجئے نگر کے راجا بہمنی ، عادل ، مغل اور آصفجاہی خاندان شامل ہیں ۔ 1724 ء میں نظام الملک آصفجاہ اول نے دکن میں اپنی خود مختاری کا اعلان کیا ۔ آصفجاہی خاندان کا آغاز 1724 اور اختتام 1948 یعنی 224 برس تک آصفجاہی خاندان کے زیر نگرانی رہا ۔
ضلع محبوب نگر میں 3 مشہور قلعے ہیں جو تاریخی حیثیت رکھتے ہیں ۔ (۱)قلعہ کوئل کنڈہ (۲)قلعہ گھن پورہ (۳)قلعہ پانگل۔ ضلع میں عوام کی آمد و رفت کیلئے حکومت نظام نے 15 جولائی 1932 سے محکمہ ریلوے کے تحت پاسنجر بس سروس کا آغاز کیا تھا جو شروع میں حیدرآباد و سکندرآباد اور چند منتخب اضلاع کے بیچ چلائی گئی جن میں محبوب نگر شامل تھا۔ بعد ازاں 11 جنوری 1958 سے روڈ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کو کارپوریشن میں تبدیل کردیا گیا ۔ ضلع محبوب نگرمیں ریلوے نظام 19 ویں صدی کی پہلی چوتھائی میں عمل میں آیا  ۔ مدراس ، رائچور اور ممبئی ریلوے اسٹیشن کو ضلع کے تعلقہ مکتھل کے موضع کرشنا ریلوے اسٹیشن سے گذرنے کا نظم کیا گیا ۔ 19 ویں صدی کے اختتام تک سکندرآباد سے محبوب نگر اور اس سے آگے ریلوے لائن سروے کا کام مکمل ہوا اور یکم اکتوبر 1916 کو سکندرآباد محبوب نگر کے درمیان ریل سرویس شروع ہوئی جن کی مسافت 71 میل تھی ۔
محبوب نگر کے عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 70 کروڑ کے صرفہ سے کوئل ساگر پراجکٹ سے پائپ لائن بچھائی گئی ۔ محبوب نگر ایک پسماندہ ضلع ہے ۔ کسانوں کو کاشت کیلئے پانی کا حصول سنگین مسئلہ ہے ۔ 2004 میں ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی نے ضلع محبوب نگر میں بھیما ، ینٹم پاڈدو ، کلواکرتی ، کوئل ساگر لفٹ اریگیشن پراجکٹس کی تعمیر شروع کی ۔ ضلع میں 9 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا نشانہ رکھا گیا تھا تاہم یہ پراجکٹس ابھی مکمل نہیں ہوسکے ہیں ۔ موجودہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حال ہی میں بھوت پور کے قریب عظیم الشان پالمور لفٹ اریگیشن پراجکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جس سے ضَع کو آبپاشی اور شہر حیدراباد کے علاوہ نلگنڈہ اور رنگا ریڈی کو لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
محبوب نگر سے 4 کیلومیٹر دور ایک برگد کا قدیم درخت ہے ۔ دور دور سے لوگ اس کو دیکھنے آئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ درخت 400 سال قدیم ہے  اس درخت کی اصل جڑ کی پہچان کافی مشکل ہے ۔ اس وسیع و عریض درخت کی چوڑائی 123.50 میٹر ہے اور یہ تقریباً ڈیڑھ ایکڑ پر محیط ہے ۔ درخت کے نیچے دو بزرگان دین حضرت سیدی کمال حسینی اور حضرت سید شاہ جمال حسینی کے مزارات ہیں ۔ اسی نسبت سے اس کا نام ’’پیرلہ مری‘‘ تھا لیکن بعد میں اس کو بدل کر ’’پلامری‘‘ کیا گیا ۔ ایک زمانہ میں یہ درخت کافی سرسبز تھا لیکن عدم نگہداشت کیو جہ سے اس کی شادابی متاثر ہوئی ۔ یس کاشی پانڈین کے کلکٹری کے زمانہ میں اس کو سیاحتی مرکز بنایا گیا  ۔ حکومت کے فنڈز سے مندر بنایا گیا ، ہرن پارک اور زو قائم کیا گیا ۔ میوزیم بھی قائم کیا گیا ۔ یہ تفریحی مقام بن گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT