Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کا مشن کاکتیہ ریاست کی ترقی کیلئے کافی مددگار

تلنگانہ کا مشن کاکتیہ ریاست کی ترقی کیلئے کافی مددگار

پروگرام مزید بہتر بنانے کے اقدامات پر زور ، کونسل میں ہریش راؤ کا بیان
حیدرآباد۔20ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاست کی آبپاشی ترقی میں حکومت کی جانب سے چلائے جا رہے ’مشن کاکتیہ ‘ سے کافی مدد حاصل ہوگی اور ریاست کی تیز رفتار آبپاشی ترقی کے ذریعہ ریاست کو سرسبز و شاداب بنایا جاسکے گا۔ ریاستی وزیر آبپاشی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے قانون ساز کونسل میں مشن کاکتیہ پر مختصر مدتی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست کی خوشحالی کیلئے ریاست میں موجود ذخائر آب کو سیر آب کرنے کیلئے یہ منصوبہ روشناس کروایا گیا جس میں حکومت کو بڑی کامیابی حاصل ہو رہی ہے او ر اس منصوبہ کی قومی سطح پر نیتی آیوگ اور ماہرین ماحولیات کی جانب سے ستائش کی جا رہی ہے۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ تلنگانہ میں علحدہ ریاست کی تحریک پانی‘ فنڈز اور روزگار کے لئے چلائی گئی تھی اور موجودہ حکومت ان امور پر ہی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ قانون ساز کونسل میں مشن کاکتیہ پر مباحث کے دوران کانگریس رکن قانون ساز کونسل مسٹر پی سدھاکر ریڈی نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے چلائے جا رہے اس پروگرام کو مزید بہتر بنانے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ انہوںنے بتایا کہ مشن کاکتیہ کی مخالفت نہیں کی جا سکتی لیکن تعمیری اپوزیشن کی حیثیت سے وہ اس منصوبہ کو مزید بہتر طریقہ سے عملی جامہ پہنانے کیلئے تجاویز دے سکتے ہیں۔ مسٹر پی سدھاکر ریڈی نے بتایا کہ جن تالابوں اور پشتوں میں قبضہ ہو چکے ہیں اور ان مقامات پر تعمیرات ہو چکی ہیں ان تعمیرات کو باقاعدہ بناتے ہوئے مشن کاکتیہ کے تیسرے اور چوتھے مرحلہ کیلئے رقم اکٹھا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں اس مشن کاکتیہ کو حاصل ہونے والی مقبولیت کے باوجود نیتی آیوگ نے 5000کروڑ کا قرض منظور نہیں کیا ہے اسی لئے تالابو ں میں ہوئی تعمیرات کو باقاعدہ بناتے ہوئے اس رقم کا استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ مشن کاکتیہ کے آغاز کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ریاست تلنگانہ میں جملہ 46ہزار 531ذخائر آب موجود ہیں جن میں ایک دوسرے سے جڑے تالاب بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا آغاز 12مارچ 2015کو کیا گیا تھا اور پہلے مرحلہ میں 8059تالاب و ذخائر آب پر کام مکمل ہونے جا رہے ہیں اور اس مرحلہ کیلئے 2595کروڑ روپئے کی منظوری عمل میںلائی گئی تھی اور دوسرے مرحلہ کیلئے حکومت نے 9113تالابوں اور ذخائر آب کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے اور اسکے لئے حکومت نے 3130 کروڑ کی منظوری فراہم کی ہے۔ مسٹر ہریش راؤ نے بتایا کہ ریاست میں جاری مشن کاکتیہ سے ریاست کے کسانوں اور تمام طبقات کوزبردست فائدہ حاصل ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2016کے دوران ہوئی شدید بارش کے باوجود صرف338تالابوں کے پشتہ ٹوٹنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور اس بارش میں 35000تالابوں میں پانی جمع ہوا جبکہ 840تالابوں میں جہاں کم پانی جمع ہوا ہے ان تالابوں کو دوسرے تالابوں سے مربوط کیا جائے گا تاکہ انہیں بہتر بنایا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT