Wednesday , May 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / تلنگانہ کو زعفرانی سیاست سے بچانے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت

تلنگانہ کو زعفرانی سیاست سے بچانے کی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت

ملک میں سیاسی تبدیلیاں مسلمانوں کیلئے لمحہ فکر‘ ورنگل میں مسلم تنظیموں کے اجلاس سے جناب عامر علی خاں کا خطاب

ورنگل ۔ 11اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدیوں تک اقتدار میں رہنے والی قوم ملک میں انتہائی پسماندگی کا شکار ہوچکی ہے‘ گائے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ‘ مسلمانوں میں آپسی تال میل کی کمی ہے ‘ موجودہ حالات اور اتحاد کے تعلق سے پیغام کو گھر گھر تک پہنچانے کی ضرورت ہے ‘ ابھی طوفان اپنے گھروں تک نہیں پہنچا ہے ‘ ہم کو تلنگانہ کی سیاست کو زعفرانی ہونے سے بچانے کیلئے حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ ‘ جناب محمد لیاقت علی خان موظف ایڈیشنل ایس پی ‘ ڈاکٹر رضا ملک خان اسسٹنٹ پروفیسر کاکتیہ میڈیکل کالج ورنگل نے ہنمکنڈہ میں ڈاکٹر انیس صدیقی صدر شانتی سنگم کی صدارت میں منعقدہ جائزہ اجلاس میں کیا ۔ اس موقع پر محمد سراج احمد ورلڈ پیس فیسٹول سوسائٹی ‘ محمد جمیل احمد ‘ سید اقبال محی الدین قادری سکریٹری آئیڈیل اسکول باسط نگر صوبیداری ‘ محمد ابوبکر کارپوریٹر ( سابق فلور لیڈر ورنگل میونسپل کارپوریشن) ‘ محمد محمود ایڈوکیٹ سینئر کانگریس قائد ‘ قاسم خان بیابانی ‘ اعظم بیگ ‘ محمد عرفان ‘ محمد سرور میاں ‘ فیض الرحمن شکیل ‘ حکیم قیومی ‘ ایم اے نعیم سکریٹری الفیضان ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی ورنگل و دیگر موجود تھے ۔ اس موقع پر سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے جناب عامر علی خان نے کہا کہ موجودہ حالات اور ملک میں سیاسی تبدیلیاں مسلمانوں کیلئے لمحہ فکر ہیں ۔ ہر مسلمان میں آپسی تال میل کی کمی ہے ‘ ہم ایک دوسرے کے راز کو راز نہیں رکھتے ۔ علماء کرام کو چاہیئے کہ موجودہ حالات سے ملت کو واقف کروائیں ‘ ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں اور الگ الگ گروہ میں بٹتے جارہے ہیں ۔ مسلمانوں کو مسائل میں الجھا کر رکھا جارہا ہے ۔ گائے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ابھی طوفان اپنے گھروں تک نہیں پہنچا ہے ‘ ہم سب کو تلنگانہ میں تبدیل ہونے والے واقعات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ریاست تلنگانہ کو زعفرانی ہونے سے کس طرح بچایا جاسکتا ہے ہم سب کو غور وفکر کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔ اس موقع پر محمد لیاقت علی خان ‘ ڈاکٹر رضا ملک ‘ ڈاکٹر انیس صدیقی و دیگر معززین شہر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت گائے کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بیف ایکسپورٹ میں ہندوستان پہلے نمبر پر ہے ۔ بڑے جانور کو بیچنے والا غیر ہے ‘ منڈیوں میں لانے والے بھی وہی ہیں ‘ جب آخر میں مسلمان خریدتا ہے تو آسانی کے ساتھ اس کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اگر منڈیوں میں جانور بیچا ہی نہ جائے تو خریدے گا کون ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں نے صدیوں تک حکمرانی کی تھی لیکن آج حالات تبدیل ہوچکے ہیں ۔ ایسے حالات میں ہم کو کامیاب حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ تین صدیوں سے برہمن طبقہ آج بالراست ملک میں حکمرانی کررہا ہے ‘ ملک کے اہم عہدے ہوں یا تمام سیاسی پارٹیاں ان سب پر اعلیٰ ہندو برہمن طبقہ کے افراد فائز ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ کو زعفرانی ہونے سے بچانے کیلئے ورنگل سے ایک تحریک کا آغاز کیا جانا چاہیئے ‘ کیونکہ ورنگل ایک تاریخی انقلابی شہر کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ریاستی حکومت مسلمانوں کی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ تو منظور کرتی ہے لیکن پورا بجٹ استعمال میں نہیں لایا جاتا ہے جس کیلئے حکومت پر دباؤ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے ۔ علاوہ اس کے مسلمانوں کی معاشی ‘ تعلیمی ‘ سیاسی حالات پر غور و خوص کرنا چاہیئے ۔ جناب محمد ابوبکر ایڈوکیٹ و کارپوریٹر ٹی آر ایس پارٹی نے موجودہ سیاسی حالات میں مسلمانوں کا رول کے تعلق سے تفصیلی معلومات سے آگاہ کیا ۔ مولانا سیف اللہ کی تلاوت کلام پاک سے اجلاس کا آغاز ہوا ۔ محمد عبدالکلیم قیومی نائب صدر مسلم ویلفیر سوسائٹی کے اظہار تشکر پر اجلاس اختتام کو پہنچا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT